سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 203 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 203

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۹۱ سرمه چشم آرید اور دوسرے اجرام و اجسام کی شناخت سے اصلی غرض یہ ہے کہ تا ان مصنوعات پر غور کرنے (۱۴۳) سے صانع حقیقی کی طرف خیال رجوع کر جائے لیکن جس مذہب میں خدائے تعالیٰ کو صانع کامل ہونے سے ہی جواب دیا گیا اگر اس مذہب میں کوئی شخص طبعی اور ہیئت یا دوسرے علوم سے کسی قدر بہرہ بھی حاصل کر لے تو اسے کیا فائدہ حاصل ہوگا۔ یہ برکات قرآن شریف میں ہی ہیں کہ اس نے ان تمام علوم طبیعی و طبابت و هیئت وغیرہ سے خداشناسی کے لئے خدمت کی ہے سو حقیقت میں یہ علوم مسلمانوں کے کام آتے ہیں نہ آریوں کے جنہوں نے خدا کو ہی خدائی سے جواب دے رکھا ہے۔ اب ہم پھر اصل کلام کی طرف رجوع کر کے کہتے ہیں کہ اب تک ہم نے ماسٹر مرلی دھر صاحب کے قول کی رد میں صرف عوام مسلمانوں کے مقابل پر عوام ہنود کے خیالات علمی کو بغرض مقابلہ وموازنہ پیش کیا ہے لیکن اگر ماسٹر صاحب کا اپنی نکتہ چینی سے یہ مطلب ہے کہ عموماً کل مسلمان علوم طبعی و ہیئت سے بے بہرہ ہیں اور یہ سب علوم ہندوؤں کی وراثت ہے تو اس چھیڑ چھاڑ سے اور بھی ماسٹر صاحب کو شرمندہ ہونا پڑے گا۔ اہل اسلام وہ قوم ہے جن کو جابجا قرآن میں یہی رغبت دی گئی ہے کہ وہ فکر اور خوض میں مشق کریں اور جو کچھ عجائبات صنعت زمین و آسمان میں بھرے پڑے ہیں ان سے واقفیت حاصل کریں۔ مومنوں کی تعریف میں خدائے تعالیٰ فرماتا ہے۔ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيِّمًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا یعنی مومن وہ لوگ ہیں جو خدائے تعالیٰ کو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے بستروں پر لیٹے ہوئے یا دکرتے ہیں اور جو کچھ زمین و آسمان میں عجائب صنعتیں موجود ہیں ان میں فکر اور غور کرتے رہتے ہیں اور جب لطائف صنعت الہی ان پر کھلتے ہیں تو کہتے ہیں کہ خدایا تو نے ان صنعتوں کو بیکار پیدا نہیں کیا یعنی وہ لوگ جو مومن خاص ہیں صنعت شناسی اور ہیئت دانی سے دنیا پرست لوگوں کی طرح صرف اتنی ہی غرض نہیں رکھتے ا آل عمران : ۱۹۲