سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 197 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 197

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۸۵ سرمه چشم آریہ جس کا ہم بشرائط متذکرہ بالا وعدہ کر چکے ہیں۔ قوله - آج تک مسلمانوں کو چاند وغیرہ کی حقیقت معلوم نہیں کہ کب نکلتا ہے اور کب چھپتا ہے ایک عید ہی آتی ہے تو سب مسلمان مشبہ میں پڑ جاتے ہیں کہ چاند کون سے دن نکلتا ہے۔ ۱۳۷ اقول ۔ بھلا غنیمت ہے کہ چاند وغیرہ کی حقیقت آپ لوگوں نے تو اچھی طرح سمجھ لی ہے۔ اے ماسٹر صاحب میں نہیں جانتا کہ اس قسم کی بیہودہ اور بے اصل باتوں سے آپ کا مطلب کیا ہے۔ اگر اس نکتہ چینی سے آپ کا مدعا یہ ہے کہ عوام مسلمانوں میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں کہ علوم طبعی و ہیئت سے بے خبر ہیں تو میں کہتا ہوں کہ اس وصف کے عوام الناس کس قوم میں نہیں پائے جاتے بلکہ ہندوؤں کے عوام پر تو گویا سادہ لوحی و ہم پرستی عجائب پرستی ختم ہے ابھی کسی اخبار میں لکھا تھا کہ ایک ہندو صاحب نے ریل کو دیکھ کر جھک کر اسے سجدہ کیا کہ تیرا دھن بل ہے تو ما تا دیوی ہے کیا ان لوگوں کی نسبت کہہ سکتے ہیں کہ ان کو بھی طبعی یا فلاسفی کی بو پہنچی ہے بھلا آپ ہی فرمائیے کہ ایسے خیالات کے مالک قریب قریب حیوانات کے ہیں یا نہیں۔ کیا جو لوگ آفتاب اور ماہتاب سے لے کر زمین کے تمام عناصر بلکہ پتھروں اور بوٹیوں تک بھی پرستش کرتے ہیں ان کو اس فلسفہ حقہ پر کچھ اطلاع ہے کہ یہ سب چیزیں مخلوق اور ایک صانع قادر کے قبضہ قدرت میں ہیں نہ کسی کو نفع پہنچا سکتی ہیں اور نہ کچھ نقصان کر سکتی ہیں ایسا ہی جا بجا آریہ صاحبوں کے عوام کیا بلکہ خواص بھی علوم فلسفیہ سے بکلّی بے خبر اور غافل محض پائے جاتے ہیں ۔ دیکھو ایک طرف آر یہ لوگوں کی فلاسفی یہ بتلاتی ہے کہ گائے جو ایک حیوان ہے مسئلہ اواگون کے رو سے کسی زمانہ میں برہمن کی قوم میں سے یعنی ایک برہمنی تھی اور پھر کسی پلید اور بُرے کام کے ارتکاب سے بعض کہتے ہیں کہ زنا کے باعث سے سزا یاب ہو کر گائے کی جون میں آئی۔ اور پھر دوسری طرف دیکھو کہ اس مجرمہ فاسقہ عورت کی ہندوؤں