سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 196 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 196

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۸۴ سرمه چشم آرید ۱۳۹ دعوتی تناسخ ہی دیکھیں یعنی جونوں کا مسئلہ کہ کس قدر مخالف طبعی و طبابت و ہیئت ہے بموجب قرار داد وید کے جو لوگ نہایت درجہ کے ذلیل گناہ کرتے ہیں وہ کیڑے مکوڑے اور حشرات الارض بنتے ہیں اور انسان کی جون انہیں کو ملتی ہے جن کا گناہ کچھ خفیف ہو۔ اب ایک محقق معظمند سوچ سکتا ہے کہ اگر یہ بات صحیح ہوتی تو اس سے لازم آتا کہ کیڑوں مکوڑوں کا کثرت سے پیدا ہونا ہمیشہ کثرت گناہوں کے تابع ہو حالانکہ یہ بات بہ ہداہت نظر سراسر باطل معلوم ہوتی ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ کا قانون قدرت صاف صاف یہی دیکھا جاتا ہے کہ اکثر کیڑے مکوڑے اور مینڈ کیں اور چھوٹے چھوٹے پر دار اور دوسرے جانور موسم برسات میں ہی پیدا ہوتے ہیں تو کیا اب یہ خیال ہوسکتا ہے کہ ہمیشہ خلقت خدا کی برسات کے دنوں میں ہی کثرت سے گناہ کرتی ہے کسی اور دنوں میں نہیں کرتی ۔ دیکھو یہ عقیدہ کس قدر علم طبعی کے برخلاف ہے۔ ایسا ہی جمیع اطباء کی تحقیقات سے اکثری طور پر یہ ثابت ہو چکا ہے کہ مرد اور عورت کی دومنیوں کے ملنے سے لڑکا لڑکی پیدا ہوتا ہے مگر دیانند صاحب فرماتے ہیں کہ وید کے رو سے صرف عورت کا نطفہ موجب حمل ہو جاتا ہے اور روح شبنم کی طرح کسی بوٹی پر گرتی ہے اس کو کوئی عورت کھا کر حاملہ ہو جاتی ہے دیکھو یہ کس قدر منافی مسائل طبابت ہے۔ ایسا ہی وید میں یہ بھی لکھا ہے کہ اندر نے ایک رشی کی لڑکی کو حمل کر دیا بلکہ آپ ہی اس کے پیٹ سے پیدا ہو گیا۔ آپ لوگوں کے بزرگ یہ بھی لکھ گئے ہیں کہ بعض رشی کان کی راہ سے بعض مونہہ کی راہ سے بعض کسی اور دوسرے حیوان کے پیٹ سے پیدا ہوئے ہیں ایسا ہی آپ کا وید بہت سے ایسے خواص چاند اور سورج کی طرف منسوب کرتا ہے جن کی زمانہ حال کی نئی تحقیق نے صاف صاف بکمال ثبوت تکذیب کی ہے۔ اگر ہم اس وقت دید سے نقل کر کے جو ہمارے سامنے رکھا ہے ان سب باتوں کو جو خلاف مسائل ثابت شدہ طبعی و طبابت و ہیئت اس میں بھری پڑی ہیں لکھیں تو یہ رسالہ ایک بڑی کتاب ہو جائے گی اس لئے بالفعل ہم ان تمام امور کو اس مستقل رسالہ پر موقوف رکھتے ہیں۔