سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 192 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 192

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۸۰ سرمه چشم آرید ۱۳۲ خاص معہ ترجمہ لکھ بھی دیں تا کہ ناظرین رائے لگا سکیں کہ آیا وہ بات اس سے نکلتی ہے یا نہیں ۔سواگر اس شرط سے ماسٹر صاحب مقابلہ کر دکھا ئیں یا کوئی اور شخص جو آریوں کے ممتاز علماء میں سے ہو تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ ایسے شخص کو خواہ ماسٹر صاحب ہوں یا منشی اندر من صاحب مراد آبادی یا منشی جیوند اس صاحب سکرٹری آریہ سماج لا ہور یا کوئی اور صاحب جو اس گروہ میں مسلم العلم ہوں سو روپیہ نقد بطور انعام دوں گا اور یہ روپیہ بقيه حاشیه ایسا ہوتا ہے کہ بعض صفات جمالیہ یا جلالیہ الہیہ انسان کی شکل پر متمثل ہو کر صاحب کشف کو نظر آ جاتے ہیں اور مجازی طور پر وہ یہی خیال کرتا ہے کہ وہی خداوند قادر مطلق ہے اور یہ امرار باب کشوف میں شائع و متعارف و معلوم الحقیقت ہے جس سے کوئی صاحب کشف انکار نہیں کر سکتا ) غرض وہی صفت جمالی جو بعالم کشف قوت متخیلہ کے آگے ایسی دکھلائی دی تھی جو خداوند قادر مطلق ہے اس ذات بے چون و بے چگون کے آگے وہ کتاب قضاء و قدر پیش کی گئی اور اس نے جو ایک حاکم کی شکل پر متمثل تھا اپنے قلم کو سرخی کی دوات میں ڈبو کر اول اس سرخی کو اس عاجز کی طرف چھڑ کا اور بقیہ سرخی کا قلم کے مونہہ میں رہ گیا اس سے اس کتاب پر دستخط کر دئیے اور ساتھ ہی وہ حالت کشفیہ دور ہوگئی اور آنکھ کھول کر جب خارج میں دیکھا تو کئی قطرات سرخی کے تازہ بہ تازہ کپڑوں پر پڑے چنانچہ ایک صاحب عبد اللہ نام جو سنور ریاست پٹیالہ کے رہنے والے تھے اور اس وقت اس عاجز کے پاس نزدیک ہو کر بیٹھے ہوئے تھے دو یا تین قطرہ سرخی کے ان کی ٹوپی پر پڑے۔ پس وہ سرخی جو ایک امر کشفی تھا وجود خارجی پکڑ کر نظر آگئی ۔ اسی طرح اور کئی مکاشفات میں جن کا لکھنا موجب تطویل ہے مشاہدہ کیا گیا ہے اور اپنے ذاتی تجارب سے ثابت ہو گیا جو بلاشبہ امور کشفیہ کبھی کبھی باذنہ تعالیٰ وجود خارجی پکڑتے ہیں یہ امور عقل