سُرمہ چشم آریہ — Page 191
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۷۹ سرمه چشم آریہ پر واجب و لازم ہوگا کہ اس کے مقابل پر وید کی شرتیوں کے ساتھ ایک رسالہ مرتب کریں، (۱۳۱ جس میں روح کے بارے میں وید کی فلاسفی بیان کی گئی ہو کہ وہ کیونکر غیر مخلوق اور خدا کی طرح قدیم اور خدا سے الگ چلی آتی ہے اور اس کے خواص کیا کیا ہیں مگر ہم دونوں فریقوں پر لازم ہوگا کہ اپنی اپنی کتاب سے باہر نہ جائیں اور کوئی خود تراشیدہ خیال پیش نہ کریں۔ بلکہ وہی بات پیش کریں جو اپنی کتاب الہامی نے پیش کی ہے اور اس آیت یا شرقی کو بہ پتہ بقيه بچشم خود دیکھتا ہے اور ان کو ر باطنوں کے انکار سے تعجب پر تعجب کرتا ہے ۔ جو اس (۱۳۱) عالم ثالث کے عجائبات سے قطعا منکر ہیں۔ راقم رسالہ ہذا نے اس عالم ثالث کے عجائبات اور نادر مکاشفات کو قریب پانچ ہزار کے بچشم خود دیکھا اور اپنے ذاتی تجربہ سے مشاہدہ کیا اور اپنے نفس پر انہیں وارد ہوتے پایا ہے۔ اگر ان سب کی تفصیل لکھی جائے تو ایک بڑی بھاری کتاب تالیف ہو سکتی ہے ۔ ان سب عجائبات میں سے ایک بڑی عجیب بات یہ ثابت ہوئی ہے کہ بعض کشفی امور جن کا خارج میں نام و نشان نہیں محض قدرت نیبی سے وجود خارجی پکڑ لیتے ہیں اگر چہ صاحب فتوحات و فصوص و دیگر اکثرا کا بر متصوفین نے اس بارے میں بہت سے اپنے خود گذشت قصے اپنی تالیفات میں لکھے ہیں لیکن چونکہ دید و شنید میں فرق ہے اس لئے مجرد ان قصوں کی سماعت سے ہم کو وہ کیفیت یقینی حاصل نہیں ہو سکتی تھی ۔ جو اپنے ذاتی مشاہدہ سے حاصل ہوئی۔ ایک مرتبہ مجھے یاد ہے کہ میں نے عالم کشف میں دیکھا کہ بعض احکام قضاء و قدر میں نے اپنے ہاتھ سے لکھے ہیں کہ آئندہ زمانہ میں ایسا ہوگا اور پھر اس کو دستخط کرانے کے لئے خداوند قادر مطلق جلّ شانہ کے سامنے پیش کیا ہے (اور یاد رکھنا چاہئے کہ مکاشفات اور رویا صالحہ میں اکثر