سُرمہ چشم آریہ — Page 184
روحانی خزائن جلد ۲ سے یہ ۱۷۲ سرمه چشم آرید (۱۲۴) قرآن شریف میں کس جگہ اور کہاں دیکھ لیا کہ حضرت ممدوح روح کے علم سے بے خبر تھے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ کو اپنی عقل نا تمام کی شامت سے اس آیت کے سمجھنے میں دھوکا لگا ہے جو قرآن شریف میں وارد ہے اور وہ یہ ہے وَ يَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبّى وَمَا أُوتِيْتُمُ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا لے الجزو ۱۵ سورہ بنی اسرائیل اور کفار تجھ سے (اے محمد) پوچھتے ہیں کہ روح کیا ہے اور کس چیز سے اور کیونکر پیدا ہوئی ہے۔ان کو کہہ دے کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے اور تم کو اے کا فر وعلم روح اور علم اسرار الہی نہیں دیا گیا مگر کچھ تھوڑا سا۔ سو اس جگہ اے ماسٹر صاحب آپ کو اپنے نقصان فہم یہ غلطی لگی کہ آپ نے اس عبارت کا مخاطب ( کہ تم کو علم روح نہیں دیا گیا) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھ لیا حالانکہ لفظ ما أُوتِيتُم جس کا ترجمہ یہ ہے کہ تم کو نہیں دیا گیا جمع کا صیغہ ہے جو صاف دلالت کر رہا ہے جو اس آیت کے مخاطب کفار ہیں کیونکہ ان آیات میں جمع کے صیغہ سے کسی جگہ آنحضرت کو خطاب نہیں کیا گیا بلکہ جابجاواحد کے صیغہ سے خطاب کیا گیا ہے اور جمع کے صیغہ سے کفار کی جماعت کو بیان کیا گیا ہے کہ وہ ایسا سوال کرتے ہیں سو اگر کوئی نرا اندھا نہ ہو تو سمجھ سکتا ہے کہ ان دونوں آیتوں میں دو جمع کے صیغے وارد ہیں ۔ اوّل يَسْتَلُونَ یعنی سوال کرتے ہیں۔ دوم مَا أُوتِيتُمُ یعنی تم نہیں دیئے گئے اور جیسا کہ ظاہر ہے کہ يَسْتَلُونَ کے صیغہ جمع سے مراد کافر ہیں جنہوں نے روح کی کیفیت کے بارے میں سوال کیا تھا۔ ایسا ہی ظاہر ہے کہ مَا أُوتِيتُمُ کے صیغہ جمع سے بھی مراد کا فر ہی ہیں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تو کسی جگہ جمع کے صیغہ سے خطاب نہیں کیا گیا بلکہ اوّل مجرد کاف سے جو واحد پر دلالت کرتا ہے خطاب کیا گیا یعنی یہ کہا گیا کہ تجھ سے کفار پوچھتے ہیں یہ نہیں کہا گیا کہ تم سے کفار پوچھتے ہیں ۔ پھر بعد اس کے ایسا ہی لفظ واحد سے فرمایا کہ ان کو کہہ دے یہ نہیں فرمایا کہ ان کو کہہ دو بر خلاف بیان حال کفار کے کہ ان کو دونوں موقعوں پر جمع کے صیغے سے بیان کیا ہے سو آیت کے سیدھے سیدھے معنے جو سیاق سباق کلام سے سمجھے جاتے ا بنی اسرائیل : ۸۶