سُرمہ چشم آریہ — Page 175
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۶۳ سرمه چشم آرید عالم کی نسبت یہی اعتقا در کھتے ہیں کہ وہ اسی کی ایجاد سے موجود اور اسی کے سہارے سے ۱۱۵ قائم اور اسی کے رشحات فیض سے پرورش یاب ہے اُن کو نہ روح کی کچھ کیفیت معلوم ہے نہ مادہ کی بلکہ بقول ماسٹر صاحب یہ معرفت روح اور مادہ کی انہیں لوگوں کے حصہ میں آگئی ہے کہ جو اپنی روحوں اور اپنے جسمی مادہ کو خدائے تعالی کی طرح غیر مخلوق اور اپنے اپنے وجود کے آپ ہی خدا خیال کرتے ہیں۔ اے لالہ صاحب؟ اگر آپ غیر مخلوق ہو کر اپنے پر میشر سے مساوی ہیں تو پھر اپنی خدائی کچھ دکھلائیے یا اپنی روح کے غیر متناہی زمانوں کی کوئی کہانی ہی سنائیے ورنہ اگر نرا دعوی ہی دعویٰ ہے تو پھر اس فضول گوئی کا ثبوت کیا ہوا۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ گیان آپ نے کہاں سے حاصل کیا ہے۔ اگر وید کی یہی تعلیم ہے تو پھر منادی کیوں نہیں کرا دیتے کہ آریوں کا پر میشر روحوں کے پیدا کرنے پر قادر نہیں۔ افسوس آپ لوگ کیوں نہیں سمجھتے کہ خدا ایسا چاہیے جو اپنی خدائی کے کام چلانے میں کسی غیر کے اتفاقی وجود کا محتاج نہ ہو بلکہ جن چیزوں پر وہ خدائی کرتا ہو وہ سب اسی کے ہاتھ سے نکلی ہوں۔ ہائے تم پر افسوس تم کیوں نہیں سمجھتے کہ جس کے مقابل پر کروڑہا وجود خود بخود چلے آتے ہیں وہ کا ہے کا خدا ہے اور کون سی خدائی اس میں ہے۔ اے نادانوں اور سمجھ کے ناقصو خدا کی کامل اور پوری خوبی کس بات میں ہے آیا اس میں کہ وہ اپنی قدرت سے کچھ نہ کر سکے اور اس کی خدائی دوسروں کے سہارے سے چلتی ہو یا اس بات میں کہ وہ سب کچھ کرتا ہو اور اس کی خدائی اسی کی غیر متناہی طاقتوں سے چلتی ہو۔ ذرا اکیلے بیٹھ کر سو چو؟ اپنے پلنگ پر لیٹے ہوئے ایک خالص فکر کو اس کے گہراؤ تک لے جاؤ ؟ کہ خدا کی ضرورتیں کہاں سے اور کہاں تک ہیں؟ بعض آریہ سماج والے ارواح کے غیر مخلوق اور اپنے وجود کے آپ خدا ہونے کے بارے میں یہ دلیل پیش کیا کرتے ہیں کہ اگر ارواح کسی وقت معدوم تھیں اور پھر خدائے تعالیٰ کے پیدا کرنے سے موجود ہو ئیں تو گویا نیست سے ہست ہو گیا اور نیستی سے ہستی ہونا ایسی دور از فہم بات ہے کہ کوئی عظمند