سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 174 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 174

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۶۲ سرمه چشم آرید ۱۴ دلیل پائی جاتی ہے جس سے یہ ثبوت مل سکے تو کس وقت کے لئے مخفی رکھی ہے واجب و لازم ہے کہ پیش کریں۔ خاص کر ماسٹر مرلید ھر صاحب جو وید کے غایت درجہ کے ثنا خوان ہیں اور بقول شخصے کہ دیکھا نہ بھالا صدقے گئی خالہ۔ پہلے اس سے کہ ویدوں کی حقیقت معلوم کریں یوں ہی دید وید کر رہے ہیں۔ ان پر تو فرض ہے کہ ضرور اس جگہ وید کا فلسفہ پیش کریں ۔ تاوید کی ڈوبتی ہوئی کشتی کا کوئی گوشہ باقی رہ جائے۔ ندارد کسے با تو نا گفتہ کارو لیکن چوگفتی دلیلش بسیار قوله - مرزا صاحب اپنے اعتراض کی تفصیل اس طرح فرماتے ہیں کہ اگر تمام ارواح کو اور ایسا ہی اجزاء صغار اجسام کو قدیم اور انا دی اور غیر مخلوق مانا جائے تو اس میں کئی قباحتیں ہیں منجملہ ان کے ایک تو یہ کہ خدائے تعالیٰ کے وجود پر کوئی دلیل قائم نہیں ہوسکتی کیونکہ جس حالت میں ارواح یعنے جیو خود بخود موجود ہیں اور ایسا ہی اجزاء صغار بھی خود بخود ہیں تو پھر صرف جوڑنے جاڑنے سے ضرورت صانع کی ثابت نہیں ہو سکتی بلکہ ایک دہر یہ بھی جو خدائے تعالیٰ کا منکر ہے عذر پیش کر سکتا ہے کہ جس حالت میں تم نے دو چیزوں کا خود بخود ہونا بغیر ایجاد پر میشر کے آپ ہی مان لیا ہے تو پھر اس بات پر کیا دلیل ہے کہ جوڑنے جاڑنے کے لئے پر میشر کی حاجت ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ایسی باتیں وہ لوگ کہتے ہیں کہ جن کو نہ تو روح کی ہی کیفیت معلوم ہے کہ وہ کیا ہے اور نہ مادہ کی ہی کیفیت کہ وہ کیا چیز ہے۔ اقول ۔ واہ کیا عمدہ جواب دیا ہے۔ اگر ماسٹر صاحب کسی عدالت کے جج ہوں تو خوب ہی پر بہار فیصلہ لکھیں ماسٹر صاحب کی عقل عجیب کے نزدیک جولوگ خداوند ذوالجلال قادر مطلق کو جمیع عالم کا صانع سمجھتے ہیں اور ہر یک فیض کا مبدء اور ہر یک وجود کا موجد و قیوم اور ہر یک سلسلہ کا منتہا اسی کو قرار دیتے ہیں اور بغیر اس کے ظاہر کرنے کے کسی چیز کا ظہور خود بخود نہیں مانتے اور بغیر اس کے پیدا کرنے کے کسی چیز کا اپنے آپ ہی پیدا ہو جانا تسلیم نہیں کرتے بلکہ سب چیزوں کا مبدء و مرجع اسی کو جانتے ہیں اور جمیع اجزاء