سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 173 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 173

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۶۱ سرمه چشم آریہ تب اس مفارقت تامہ سے کوئی ضرر انسانی کمالات کے عائد حال نہیں ہوگا ہم جانتے ﴿۱۳﴾ ہیں کہ ضرور ہو گا تجارب طبی ہمارے لئے دلیل کافی ہے یعنی ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ اختلال جسمانی اختلال روحانی کا موجب ہے اور جسمانی صحت یا مرض کو روحانی صلاح یا فساد پر ایک قومی اثر ہے اب جو شخص اس بد یہی دلیل کے برخلاف رائے رکھتا ہے اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ انسانیت کا ملہ کے خواص بلا ترکیب جسم جیسا کہ چاہیے کہ مجرد روح سے صادر ہو سکتے ہیں تو بار ثبوت اسی کی گردن پر ہے جس سے وہ کبھی سبکدوش نہیں ہوسکتا کیونکہ محققین کے تجارب اس بات کی تائید میں انتہا تک پہنچ گئے ہیں کہ صد ور افعال کا ملہ انسانیت کے لئے ترکب جسم مع الروح ضروری ہے اور جب جسم آیا تو جسمانی لوازم بھی ساتھ آئیں گے۔ ہاں چونکہ وہ بہشتی جسم ایک لطیف اور نورانی بدن ہوگا اس لئے اس کے لوازم بھی لطیف اور نورانی ہی ہوں گے۔ اب دیکھنا چاہیئے کہ قریب بقیاس اور قانون قدرت کے موافق اور دلائل طبعیہ اور طبیہ سے تائید یافتہ اور ثابت شدہ وہ بہشت ہے جس کو قرآن شریف نے نہایت پاکیزگی سے بیان کیا ہے اور براہین شافیہ سے اس کا ثبوت دیا ہے یا وہ وہمی اور خلاف قیاس اور منحوس مکتی خانہ جس کا وید میں ذکر ہے یعنی یہ کہ مجرد روحیں پتھر کی طرح پڑی رہیں گی اور پھر کچھ عرصہ کے بعد مکتی خانہ سے باہر نکالی جائیں گی ۔ کیا انسان کی انتہائی سعادت یہی ہے کہ وہ مجرد روح ره کران با برکت اور نہایت مفید حواس کو کھو بیٹھے جو اس کی غیر متناہی ترقیات کا موجب ہیں اور پھر اس پر بھی کفایت نہیں بلکہ مصیبت پر مصیبت یہ کہ انجام کا مکتی خانہ سے ذلیل کر کے نکالا جائے انصاف کرنا چاہیے کہ کیا ایسی نا معقول مکتی پر کوئی فلسفی بر ہان قائم ہو سکتی ہے اور کیا اس جہان میں اور اس زندگی میں کوئی شافی دلیل ہم کو اس بات پرمل سکتی ہے کہ افعال کا ملہ انسانیت جو قومی ظاہری و باطنی سے وابستہ اور دماغی حواسوں سے ظہور پذیر ہیں وہ مجرد روحوں سے صادر ہو سکتے ہیں اگر کسی آریہ کے نزدیک کوئی ایسی