سُرمہ چشم آریہ — Page 172
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۶۰ سرمه چشم آرید نے ایسی حکمت کا ملہ سے صورت پذیر کیا کہ تکمیل نفس ناطقہ انسان کے لئے عجیب آثار اس سے مترتب ہوئے گویا حکیم مطلق نے روح انسان کو اپنے مراتب عالیہ تک پہنچنے کے لئے ایک ضروری سیر ھی عطا کر دی سوجیسا کہ یہ ظاہر ہے کہ ان مراتب عالیہ کی کوئی انتہا نہیں ایسا ہی یہ بھی ظاہر ہے کہ اس سیڑھی کی بھی ہمیشہ کے لئے ضرورت ہے اور یہ کیونکر ہو سکے کہ وہ ذریعہ ترقیات جس کی ہمیشہ کے لئے روح کو ضرورت ہو اس سے الگ کیا جائے ماسوا اس کے ترقیات تو ایک طرف رہیں علوم حاصل کردہ بھی بغیر شمول جسم کے محفوظ نہیں رہ سکتے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جسم کے ماؤف ہونے کے ساتھ ہی انسانیت کے افعال میں فتور پڑ جاتا ہے۔ مثلاً اگر سر پر کوئی چوٹ لگ جائے تو جس مقام پر اس چوٹ کا صدمہ پہنچے اس مقام کی دماغی قوت ساتھ ہی خلل پذیر یا معطل ہو جاتی ہے اگر کسی کو شک ہو تو تجربہ کر کے دیکھ لے پس جبکہ صدور افعال انسانیت کے لئے جسم کی صحت و درستی نہایت ضروری ہے اور جسمی اختلال کو روحانی اختلال لازم پڑا ہوا ہے تو اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ ہماری روح بغیر شمول جسم کے انسانی لوازم اور کمالات اور حفظ مکمالات کا مظہر ومصدر نہیں ہو سکتی ہم دنیا میں صریح دیکھتے ہیں کہ جسم کے آفت زدہ ہونے سے روحانی کاروبار میں ابتری واقع ہو جاتی ہے۔ مجانین یعنی سودائیوں اور پاگلوں کی جب جسمی حالت درست نہیں رہتی اور دماغی اعتدال میں کچھ فرق واقع ہو جاتا ہے تو مجرد روح کے ہونے سے افعال انسانیت ہرگز ان سے صادر نہیں ہو سکتے ۔ بعض آدمیوں کو دماغی فتوروں سے اس قدر متاثر دیکھا گیا ہے کہ تمام علوم یک دفعہ ان کو بھول گئے ہیں یاں تک کہ اپنا نام بھی یاد نہیں رہا اور بار بار دوسروں سے پوچھتے ہیں کہ میرا نام کیا ہے۔ اب جبکہ ایک تھوڑے سے جسمی خلل سے انسانی افعال میں اس قدر آفتیں پیدا ہو جاتی ہیں تو ہم کس طور سے یقین کر لیں اور کون سی دلیل ہمارے ہاتھ میں ہے جس سے ہم اس بات کے باور کرنے کے لئے بکلی تیار ہوجائیں کہ جب روح جسم سے قطعی طور پر الگ ہو جائے گی ۱۱۲