سُرمہ چشم آریہ — Page 171
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۵۹ سرمه چشم آریہ درندہ یا زلزلہ کی شکل میں دکھائی دیتی ہے یا ناقص اور مکروہ چیزوں کی صورت میں جیسے پیاز یا ھے مولیاں یا مرچیں یا بد بودار چیزیں یا نجاست آمیز کیچڑ وغیرہ کے رنگ میں نمودار ہوتی ہیں غرض یہ بات محققین اور مجربین کے مشاہدات کثیرہ متواترہ سے ثابت ہو چکی ہے جس سے فلسفیوں نے بھی اتفاق کر لیا ہے کہ عالم رویا اور عالم آخرت مرا یا متقابلہ کی طرح واقعہ ہیں جو کچھ فطرت اور قدرت الہی نے عالم خواب میں خواص عجیبہ رکھے ہیں اور جس عجیب طور سے روحانی امور محسوس و مشہود طور پر اس عالم میں دکھائی دیتے ہیں بعینہ یہی حال عالم آخرت کا ہے یا یوں کہو کہ عالم خواب عالم آخرت کے لئے اس عکسی آئینہ کی طرح ہے جو ہو بہو فو ٹو گراف اتار دکھائے اور اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ موت اور خواب دو حقیقی بہنیں ہیں جن کا خلیہ اور شکل اور لوازم اور خواص قریب قریب ہیں اور اگر ہم اسی زندگی دنیا میں عالم آخرت کے کچھ اسرار بغیر ذریعہ الہام اور وحی کے دریافت کر سکتے ہیں تو بس یہی ایک ذریعہ عالم رویا کا ہے سو دانشمندوں کو چاہئے کہ اگر اس عالم کی کیفیت کچھ دریافت کرنا چاہیں تو عالم رویا پر بہت غور اور توجہ کریں کیونکہ جن عجائبات سے یہہ عالم رویا بھرا ہوا ہے اسی قسم کے عجائبات عالم آخرت میں بھی ہیں اور جس طور کی ایک خاص تبدیل وقوع میں آکر عالم رویا پیدا ہو جاتا ہے اور پھر اس میں یہ عجائبات کھلتے ہیں عالم آخرت میں بھی اسی کے مشابہ تبدیل ہے سو جبکہ خدائے تعالیٰ کا قانون قدرت عالم رویا میں یہی ہے کہ وہ روحانیات کو جسمانیات سے متمثل کرتا ہے اور معقولات کو محسوسات کا لباس پہناتا ہے سو وہی قانون قدرت دوسرے عالم میں بھی سمجھنا چاہئے اور یہ خیال آریوں کا کہ عالم آخرت میں صرف روح اکیلی رہ جائے گی اور اس کے ساتھ جسم نہیں ہوگا اور لذتیں بھی صرف روحانی اور معقولی طور پر ہوں گی یہ سراسر تحکم ہے جس پر کوئی دلیل نہیں یہ بات نہایت صاف اور بدیہی الثبوت ہے کہ انسان ترقیات غیر متناہیہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور ذریعہ ان ترقیات کا اس کی وہ جسمی ترکیب ہے جس کو قادر مطلق