سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 169 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 169

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۵۷ سرمه چشم آرید لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغُوا وَلَا تَأْثِيمًا - إِلَّا قِيلًا سَلْمَا سَلَمًا - - وُجُوهُ ١٩) يَوْمَذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبَّهَا نَاظِرَةٌ : وَمَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَعْمَى فَهُوَ في الآخِرَةِ أَعْمَى وَأَضَلُّ سَبِيلًا - اور شراب صافی کے پیالے جو آب زلال کی طرح مصفی ہوں گے بہشتیوں کو دیئے جائیں گے۔ وہ شراب ان سب عیبوں سے پاک ہوگی کہ دردسر پیدا کرے یا بیہوشی اور بدمستی اس سے طاری ہو ۔ بہشت میں کوئی لغو اور بیہودہ بات سننے میں نہیں آئے گی اور نہ کوئی گناہ کی بات سنی جائے گی بلکہ ہر طرف سلام سلام جو رحمت اور محبت اور خوشی کی نشانی ہے سننے میں آئے گا۔ اس دن مومنوں کے مونہہ تر و تازہ اور خوبصورت ہوں گے اور وہ اپنے رب کو دیکھیں گے اور جو شخص اس جہان میں اندھا ہے وہ اس جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا بلکہ اندھوں سے بھی گیا گزرا۔ اب ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ وہ بہشتی شراب دنیا کی شرابوں سے کچھ مناسبت اور مشابہت نہیں رکھتی بلکہ وہ اپنی تمام صفات میں ان شرابوں سے مبائن اور مخالف ہے اور کسی جگہ قرآن شریف میں یہ نہیں بتلایا گیا کہ وہ دنیوی شرابوں کی طرح انگور سے یا قند سیاہ اور کیکر کے چھلکوں سے یا ایسا ہی کسی اور دنیوی مادہ سے بنائی جائے گی بلکہ بار بار کلام الہی میں یہی بیان ہوا ہے کہ اصل تخم اس شراب کا محبت اور معرفت الہی ہے جس کو دنیا سے ہی بندہ مومن ساتھ لے جاتا ہے۔ اور یہ بات کہ وہ روحانی امر کیونکر شراب کے طور پر نظر آ جائے گا۔ یہ خدائے تعالیٰ کے بھیدوں میں سے ایک بھید ہے جو عارفوں پر مکاشفات کے ذریعہ سے کھلتا ہے اور عقلمند لوگ دوسری علامات و آثار سے اس کی حقیقت تک پہنچتے ہیں۔ روحانی امور کا جسمانی طور پر متمثل ہو جانا کئی مقامات قرآن شریف میں بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ یہ بھی لکھا ہے کہ تسبیح اور تقدیس الہی کی باتیں پھلدار درختوں کی طرح متمثل ہوں گی ۔ اور نیک اعمال پاک اور صاف نہروں کی طرح دکھلائی دیں گے اسی کی طرف دوسرے مقام میں اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتُ وَ الواقعة : ٢٧،٢٦ القيامة :۲۴۲۳ بنی