سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 168 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 168

۱۰۸ روحانی خزائن جلد ۲ ۱۵۶ سرمه چشم آریہ سمجھتے ہیں روحانی لذات اور وصال ربانی کے بارے میں جو نجات یابوں کو حاصل ہوگا۔ قرآن شریف کا مقابلہ کر کے دکھلاویں اور وہ برہمو صاحب اس کی تائید اور تصدیق کریں تو وہ سو روپیہ ماسٹر صاحب کا ہوگا ورنہ بجائے اس سو روپیہ کے ہم ماسٹر صاحب سے کچھ نہیں مانگتے صرف یہی شرط کرتے ہیں کہ مغلوب ہونے کی حالت میں ایسے وید سے جو بار بار انہیں ندامت دلاتا ہے دست بردار ہو کر اسلام کی کچی راہ کو اختیار کر لیں۔ یار غالب شوکه تا غالب شوی ) اور اگر ماسٹر صاحب اس رسالہ کی اشاعت کے بعد ایک ماہ تک خاموش رہے اور ایسا مضمون کسی اخبار میں اور نہ اپنے کسی رسالہ میں شائع کیا تو اے ناظرین آپ لوگ سمجھ جائیں کہ وہ بھاگ گئے ۔ رہا یہ اعتراض کہ شراب جو دنیا میں بھی ممنوعات اور محرمات میں سے ہے وہ کیونکر بہشت میں روا ہو جائے گی۔ اس کا جواب وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ فرمایا ہے کہ بہشتی شراب کو اس دنیا کی فساد انگیز شرابوں سے کچھ مناسبت نہیں جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَسَقَهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا - - إِنَّ الْأَبْرَارَ يَشْرَبُونَ مِنْ كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًا - عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللهِ يُفَجِّرُونَهَا تَفْجِيرًا - یعنی جو لوگ بہشت میں داخل ہوں گے ان کا خدا ان کو ایک ایسی پاک شراب پلائے گا جو ان کو کامل طور پر پاک کر دے گی ۔ نیک لوگ وہ جام پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہے یعنی ان کے دل وہ شراب پی کر غیر کی محبت سے بکلی ٹھنڈے ہو جاویں گے۔ وہ کا فوری شراب ایک چشمہ ہے جس کو اسی دنیا میں خدا کے بندے پینا شروع کرتے ہیں۔ وہ اس چشمہ کو ایسا رواں کر دیتے ہیں کہ نہایت آسانی سے بہنے لگتا ہے اور وسیع اور فراخ نہریں ہو جاتی ہیں یعنی ریاضات عشقیہ سے سب روکیں ان کی دور ہو جاتی ہیں اور نشیب و فراز بشریت کا صاف اور ہموار ہو جاتا ہے اور جناب الہی کی طرف انقطاع کلی میسر آکر معارف الہیہ میں وسعت تامہ پیدا ہو جاتی ہے اور پھر دوسری جگہ فرماتا ہے ۔ وَكَأْسٍ مِنْ مَّعِينٍ لَّا يُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَلَا يُنْزِفُوْنَ ۔ الدهر : ٢٢ الدهر : ٧،٦ الواقعه : ۲۰،۱۹