سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 165 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 165

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۵۳ سرمه چشم آرید غرض سے مکتی کے ملنے میں ایسی دشواریاں ڈال دیں ہیں جو ممکن ہی نہیں کہ آپ لوگ (۱۰۵ ان سے مخلصی پاسکیں بھلا جب ایک گناہ کے لئے ایک لاکھ اور کئی ہزار جون کی سزا ٹھہری اور ایک طرفۃ العین یعنی ایک پاکارہ بھی خدائے تعالیٰ سے غافل ہونا گناہ ٹھہرا تو پھر سکتی پانے کی کون سی راہ باقی رہی۔ سو اگر آپ لوگ حقیقت حال کو سوچیں تو اپنی نو امیدی کی حالت کو دیکھ کر ماتم کریں اور سوگ میں بیٹھیں کیونکہ پر میشر نے تو ایک طرح سے مکتی دینے سے آپ لوگوں کو جواب دے دیا ہے کیونکہ نہ نومن تیل ہوگا نہ رادھانا چے گی ۔ کیا اس زندگی موجودہ میں کوئی شخص آپ لوگوں میں سے دعوی کر سکتا ہے کہ میں نے کبھی کسی قسم کا گناہ نہیں کیا نہ صغیرہ نہ کبیرہ اور نہ کبھی جھوٹ زبان پر آیا۔ اور نہ کبھی کسی کو زبان یا ہاتھ یا آنکھ وغیرہ سے ستایا اور نہ کبھی مال نا جائز کھایا اور نہ کبھی ایک سیکنڈ بھی اپنے پر میشر کو بھلایا اور نہ کسی اور قسم کا گناہ یا بد خیال دل میں آیا۔ میں جانتا ہوں کہ ایسا دعویٰ کرنا ممکن ہی نہیں تو پھر کسی آئندہ جون کا بھی اسی پر قیاس کر لیجئے کیونکہ اس دار الغفلت دنیا میں گناہ انسان کی فطرت کو لگا ہوا ہے اور جیسے فطرتی خواص اس موجودہ زندگی میں آپ سے الگ نہیں ہو سکے ایسا ہی کسی آئندہ جون میں دنیا میں آ کر ان فطرتی خواص کا بکلی دور ہو جانا ممتنع اور محال ہے۔ بعض موٹی سمجھ کے آدمی جن کو بہ باعث اپنی نادانی اور نقصان علمی کے گناہ کی فلاسفی معلوم نہیں وہ شاید بوجہ اپنے کمال درجہ کی سادہ لوحی کے ایسا خیال کرتے ہوں گے کہ گویا گناہ انہیں دو چار باتوں کا نام ہے کہ انسان ارتکاب زنا یا خون یا شہادت دروغی پر دلیری کرے یا کسی جگہ سیندہ لگا دے یا کسی کی گانٹھ کتر لے اور پھر جب ان چند معدود اور مشہور جرائم کو چھوڑ دے تو پھر گناہ سے بکلی پاک اور صفا ہو گیا اور اپنے پر میشر کو کہہ سکتا ہے کہ اب تیرے حقوق سب میں نے ادا کر دئیے اور جو کچھ کرنا میرے پر واجب تھا سب کچھ میں کر گزرا لیکن در حقیقت یہ خیال سراسر غلط بلکہ بھاری گناہ ہے جو انسان اپنے تئیں بے گناہ اور ۔