سُرمہ چشم آریہ — Page 157
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۴۵ سرمه چشم آریہ میں سے کوئی بات بھی قائم نہیں رہ سکتی اور ایک ایسا سخت صدمہ اس کی شان خدائی پر پہنچتا ہے کہ اس میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ ایک ادنیٰ درجہ کی عقل بھی سمجھ سکتی ہے کہ خدائے تعالیٰ کے ایک ہونے کے یہی معنے ہیں کہ در حقیقت وجود اسی کا وجود ہے اور باقی سب چیزیں اس سے نکلی ہیں اور اسی کے ساتھ قائم اور اسی کے رشحات فیض سے اپنے کمالات مطلوبہ تک پہنچتی ہیں مگر افسوس کہ آریوں کا علم الہی اس کے برخلاف بتلا رہا ہے ان کی کتابیں انہیں واویلوں سے پر ہیں کہ ہم بھی پر میشر کی طرح قدیم اور غیر مخلوق اور انا دی اور اس کے مشابہ اور اپنے اپنے وجود کے آپ خدا ہیں نہیں سوچتے کہ اگر وہ بھی قدیم الذات اور قائم بذاتہ اور واجب الوجود ہیں تو پھر خدا جیسے ہو کر اس کی ماتحت کیوں ہو گئے اور کس نے درمیان میں ہو کر دونوں میں تعلق پیدا کر دیا افسوس کہ ان لوگوں نے عقیدہ باطلہ وید سے ایسی محبت کی ہے کہ خدائے تعالیٰ کی عظمت اور کمالیت کے لئے ذرہ غیرت باقی نہیں رہی اور اس عقیدہ مذکورہ بالا کے بدتر اثر نے ان کا کچھ باقی نہیں چھوڑا اور اسی بد اعتقاد کا بداثر جاودانی نجات کا بھی رہزن ہوا ہے اور اس کی نحوست سے آریہ مت کے دفتر میں ایک ہنگامہ مفاسد بر پا ہو رہا ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ کی ذات وصفات کو صحیح یا غلط طور پر جانا ایک ایسا امر ہے کہ اس کا اثر (جیسا کہ ہو ) تمام باقی اصولوں پر پڑتا ہے اگر اس میں صلاحیت ہو تو دوسرے اصول بھی صلاحیت رکھتے ہیں اور اگر اس میں فساد ہو تو وہ فساد دوسرے اصولوں میں بھی سرائت کرتا ہے اسی جہت سے اس اصل الاصول کے بگڑنے سے آریوں کے سب عقائد کی ستیا ناس ہوئی ہے اور سب خیالات کو اس ایک ہی بگڑے ہوئے خیال نے تہ و بالا کر دیا ہے اور اب جب تک اس کی اصلاح نہ ہو تب تک باقی خراب شدہ خیالات کسی نوع سے درستی پر نہیں آ سکتے اب حقیقت میں آریوں کو بڑی مشکل پیش آگئی ہے اب ان دونوں وید اور پر میشر سے ایک کو ضرور چھوڑنا پڑے گا۔