سُرمہ چشم آریہ — Page 146
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۳۴ سرمه چشم آرید یہ سب بقول آپ کے حقیقت میں انسانی روحیں ہیں جو کسی جنم گزشتہ کی شامت سے بطور تناسخ یہ صورتیں اختیار کرلی ہیں اور یہ سارا مجمع مختلف چیزوں کا جوزمین و آسمان میں نظر آتا ہے یہ سب حسب اصول آپ لوگوں کے اتفاقی ہے جس میں پر میشر کے ارادہ اور قدرت کا سر مودخل نہیں اور نہ اس کو ان چیزوں کے زیادہ یا کم کرنے یا موجود یا معدوم کرنے میں ایک ذرا اختیار ہے اور آپ لوگوں کے خیال میں یہ جما ہوا ہے کہ اگر انسانی روحیں مرتکب گناہوں کے نہ ہوتیں تو یہ چندیں ہزار عالم مخلوقات جو نظر آ رہا ہے ان میں سے ایک بھی نہ ہوتا ۔ گویا ہر یک آرام دنیا کا بزعم آپ لوگوں کے بدکاریوں سے ہی میسر آتا ہے اور تمام دنیوی نعمتوں کے حاصل ہونے کا اصل موجب بدکاریاں ہی ہیں ۔ کوئی شخص گناہ کر کے گائے کے جنم میں آئے تو آپ دودھ پئیں اور پھر کسی بد کاری سے گھوڑی کا جنم لے تو آپ کو سواری میسر ہو ۔ اور پھر کسی معصیت سے گدھی یا خچر یا اونٹ کی جون میں ٨٦ بقيه حاشیه هند ولوگ سورج و آگ وغیرہ کی پرستش کرتے آئے ہیں اور اب بھی ان میں سے بہت ساگر وہ اس پر ستش پر قائم ہے یونانی بھی ان چیزوں کی پرستش کرتے رہے ہیں اور ان کا نام وہ ارباب الانواع رکھتے ہیں گبروں کا آتش پرستی کرنا تو سب سے بڑھ کر ہے۔ اگر صد سال گبر آتش فروز د چویکدم اندران افتد بسوزد ماسوا اس کے یہ بات نہایت ظاہر ہے کہ ہر یک جسم میں جتنے ذرات ہیں اسی قدر روحوں کا اس سے تعلق ہے اگر ایک قطرہ پانی کو خورد بین سے دیکھا جائے تو ہزاروں کیڑے اس میں نظر آتے ہیں ویسا ہی پھلوں میں اور بوٹیوں میں اور ہوا میں بھی کیڑے مشہور ومحسوس ہیں ۔ بہر حال ہر یک جسم دار چیز کیٹروں سے بھری ہوئی ہے مگر کبھی وہ کیڑے مخفی ہوتے ہیں یا یوں کہو کہ بالقوہ پائے جاتے ہیں اور کبھی مکمن قوت سے حیر فعل میں آ جاتے ہیں مثلاً جس اناج کو دیکھو تو بظا ہر ایسا معلوم ہو گا کہ اس میں کوئی کیڑا