سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 146 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 146

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۳۴ سرمه چشم آریه ۸۲) یہ سب بقول آپ کے حقیقت میں انسانی روحیں ہیں جو کسی جنم گزشتہ کی شامت سے بطور تناسخ یہ صورتیں اختیار کر لی ہیں اور یہ سارا مجمع مختلف چیزوں کا جو زمین و آسمان میں نظر آتا ہے یہ سب حسب اصول آپ لوگوں کے اتفاقی ہے جس میں پر میشر کے ارادہ اور قدرت کا سر مودخل نہیں اور نہ اس کو ان چیزوں کے زیادہ یا کم کرنے یا موجود یا معدوم کرنے میں ایک ذرا اختیار ہے اور آپ لوگوں کے خیال میں یہ جما ہوا ہے کہ اگر انسانی روحیں مرتکب گناہوں کے نہ ہوتیں تو یہ چندیں ہزار عالم مخلوقات جو نظر آ رہا ہے ان میں سے ایک بھی نہ ہوتا ۔ گویا ہر یک آرام دنیا کا بزعم آپ لوگوں کے بدکاریوں سے ہی میسر آتا ہے اور تمام دنیوی نعمتوں کے حاصل ہونے کا اصل موجب بدکاریاں ہی ہیں ۔ کوئی شخص گناہ کر کے گائے کے جنم میں آئے تو آپ دودھ پئیں اور پھر کسی بدکاری سے گھوڑی کا جنم لے تو آپ کو سواری میسر ہو۔ اور پھر کسی معصیت سے گدھی یا خچر یا اونٹ کی جون میں بقيه حاشیه ہندو لوگ سورج و آگ وغیرہ کی پرستش کرتے آئے ہیں اور اب بھی ان میں سے بہت ساگر وہ اس پرستش پر قائم ہے یونانی بھی ان چیزوں کی پرستش کرتے رہے ہیں اور ان کا نام وہ ارباب الانواع رکھتے ہیں گبروں کا آتش پرستی کرنا تو سب سے بڑھ کر ہے۔ اگر صد سال گبر آتش فروند چو یکدم اندران افتد بسوزد ماسوا اس کے یہ بات نہایت ظاہر ہے کہ ہر یک جسم میں جتنے ذرات ہیں اسی قدر روحوں کا اس سے تعلق ہے اگر ایک قطرہ پانی کو خورد بین سے دیکھا جائے تو ہزاروں کیڑے اس میں نظر آتے ہیں ویسا ہی پھلوں میں اور بوٹیوں میں اور ہوا میں بھی کیڑے مشہود و محسوس ہیں ۔ بہر حال ہر یک جسم دار چیز کیڑوں سے بھری ہوئی ہے مگر کبھی وہ کیڑے مخفی ہوتے ہیں یا یوں کہو کہ بالقوہ پائے جاتے ہیں اور کبھی مکمن قوت سے حیز فعل میں آ جاتے ہیں مثلاً جس اناج کو دیکھو تو بظاہر ایسا معلوم ہوگا کہ اس میں کوئی کیڑا