سُرمہ چشم آریہ — Page 143
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۳۱ سرمه چشم آرید ہونا چاہئے یعنے اس نیت سے کہ اگر حق ظاہر ہو تو اسے قبول کر لیں مگر وہ شخص جو ایک بات کو ۸۳) اپنے لئے تو جائز رکھتا ہے لیکن اگر فریق مخالف کے کسی امر مسلم میں اس کے ہزار جز میں سے ایک جز بھی پائی جائے اور کیسی ہی خوبی سے پائی جائے تب بھی اس کو قبول نہیں کرتا ایسے شخص کی نیت ہرگز بخیر نہیں ہوتی اور جو وقت اس کے ساتھ بحث میں خرچ ہو وہ ناحق ضائع جاتا ہے پس کیا یہ بُری بات ہے کہ ایسے شخص کو سمجھایا جائے کہ بھائی جبکہ تو خود آپ ہی ایسی باتوں کو مانتا ہے کہ نہ صرف بالاتر از عقل بلکہ خلاف عقل بھی ہیں تو جو امور عقل محدود انسانی سے بالاتر ہیں اور ان کا ثبوت بھی تجھے دیا جاتا ہے۔ان کے ماننے میں تجھے کیوں تامل ہے بلکہ تمام تر دینداری و پر ہیز گاری تو اس میں ہے کہ اگر انسان ایک بات کو اپنی رائے میں صحیح سمجھتا ہے تو اسی نوع کی بات میں اپنے مخالف کے ساتھ منکرانہ جھگڑا نہ لے بیٹھے کہ یہ او باشانہ طریق ہے جس میں فریقین کی تضیع اوقات ہے پھر پر ظاہر ہے کہ ایسا جھگڑا کس قدر برا اور خلاف طریق انصاف ہوگا کہ ایسی بات سے انکار کیا جائے کہ جو اپنے مسلمات سے صد ہا درجہ صاف اور پاک اور قدرت الہی میں داخل اور تاریخی طور پر ثبوت بھی اپنے ساتھ رکھتی ہو ۔ بے شک ایسا نکما جھگڑا کرنے والا اپنا اور اپنے مخالف کا وقت عزیز کھونا چاہتا ہے جس کو الزامی جواب سے متنبہ کرنا اپنے حفظ اوقات کے لئے فرض طریق مناظرہ ہے اور نیز چونکہ دنیا میں مختلف طبیعتوں کے آدمی ہیں بعض لوگ جو نادر الوجود ہیں وہ تحقیقی بات سن کر اپنی ضد چھوڑ دیتے ہیں اور اکثر عوام جو تحقیقی جواب سمجھنے کا مادہ ہی نہیں رکھتے یا بعض ان میں سے کچھ مادہ تو رکھتے ہیں مگر چاند پر خاک ڈالنا چاہتے ہیں اس لئے ان کا مونہہ الزامی جوابوں سے بند ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ الزامی طور پر چند مسلمات آپ کے آپ کو سنائے گئے ورنہ اصل مدار جواب کا تو تحقیق پر ہی ہے ۔ بالآخر یہ بھی واضح رہے کہ ہر چند ویدوں میں بہت سی بے بنیاد کہانیاں بطور معجزات گزشتہ دیوتاؤں کے لکھے ہیں مثلاً رگوید اشتک اول میں لکھا ہے کہ اسونوں (دیوتاؤں ) نے