سُرمہ چشم آریہ — Page 141
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۲۹ سرمه چشم آرید یہودی مجوسی وغیرہ ہیں وہ قرآنی شہادتوں سے یعنی ان واقعات سے جو قرآن شریف ۸۱ نے اپنے زمانہ کے متعلق لکھے ہیں انکار نہیں کر سکتے ہاں تعصب کی راہ سے بعض آیات کے معنے اور طور پر کر لیتے ہیں مثلاً شق القمر میں وہ آپ کی طرح یہ نہیں کہتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ امر خلاف واقعہ قرآن شریف میں لکھ دیا ہے۔ چنانچہ اس بات کی تو آپ بھی شہادت دے سکتے ہیں کہ آپ نے تمام عمر میں کوئی ایسی کتاب کسی فاضل انگریز یا یہودی کی نہیں دیکھی ہوگی جس میں انہوں نے آپ کی طرح یہ رائے ظاہر کی ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جھوٹا دعوئی شق القمر کا قرآن میں لکھ دیا ہے کیونکہ جو فاضل قسیس اور باخبر انگریز ہیں وہ لوگ بباعث اپنی عام اور وسیع واقفیت کے خوب جانتے ہیں کہ جس طور اور التزام سے قرآن شریف نے اشاعت پائی ہے اور جس تشدد سے مخالفوں اور موافقوں کی نگرانی اس کی آیت آیت پر رہی ہے اور جس شرعت اور جلدی سے اس کے ہر یک مضمون کی تبلیغ لاکھوں آدمیوں کو ہوتی رہی ہے اور جس قلیل عرصہ میں جو بعد زمانہ نبوی تئیس برس سے بھی کم تھا وہ دنیا کے اکثر حصوں میں شہرت پا گیا ہے وہ ایسا طور اور طریق چاروں طرف سے محفوظ ہے کہ اس میں یہ گنجائش ہی نہیں کہ کوئی جھوٹا معجزہ یا کوئی جھوٹی پیش گوئی افترا کر کے قرآن شریف میں درج ہو سکتی جس کے افترا پر عیسائیوں یہودیوں عربیوں مجوسیوں میں سے کسی کو بھی اطلاع نہ ہوتی ۔اسی وجہ سے اگر چہ آج تک صد با فاضل انگریزوں نے بوجہ شدت عناد بہت کچھ مخالفانہ حملے اپنی کتابوں اور تفسیروں میں قرآن شریف پر کرنے چاہے ہیں جن میں وہ باطل پر ہونے کی وجہ سے کامیاب نہیں ہو سکے مگر یہ رائے جو آپ نے بیان کی آج تک ان میں سے کسی نے بھی نہیں کی ۔ سو آپ کا ایسی کتاب کو مؤرخانہ وقعت سے باہر سمجھنا اور جو ہر صافی اور خس و خاشاک برابر خیال کر لینا اور صاف صاف فرق دیکھ کر اپنی آنکھوں پر پردہ ڈال لینا صرف نظر کا گھاٹا