سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 135 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 135

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۲۳ سرمه چشم آریه صلی اللہ علیہ وسلم جنہوں نے عام اور علانیہ طور پر یہ دعوئی مشہور کر دیا تھا کہ میرے ہاتھ سے ﴿۵﴾ معجزہ شق القمر وقوع میں آگیا ہے اور کفار نے اس کو بچشم خود دیکھ بھی لیا ہے مگر اس کو جادو قرار دیا اپنے اس دعوی میں سچے نہیں تھے تو پھر کیوں مخالفین آنحضرت جو اسی زمانہ میں تھے جن کو یہ خبریں گویا نقارہ کی آواز سے پہنچ چکی تھیں چپ رہے اور کیوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مواخذہ نہ کیا کہ آپ نے کب چاند کو دو ٹکرے کر کے دکھایا اور کب ہم نے اس کو جادو کہا اور اس کے قبول سے مونہہ پھیرا اور کیوں اپنے مرتے دم تک خاموشی اختیار کی اور مونہہ بند رکھا یاں تک کہ اس عالم سے گزر گئے کیا ان کی یہ خاموشی جو ان کی مخالفانہ حالت اور جوش مقابلہ کے بالکل بر خلاف تھی اس بات کا یقین نہیں دلاتے کہ کوئی ایسی سخت روک تھی جس کی وجہ سے کچھ بول نہیں سکتے تھے مگر بجر ظہور سچائی کے اور کون سی روک تھی یہ معجزہ مکہ میں ظہور میں آیا تھا اور مسلمان ابھی بہت کمزور اور غریب اور عاجز تھے پھر تعجب یہ کہ ان کے بیٹوں یا پوتوں نے بھی انکار میں کچھ زبان کشائی نہ کی حالانکہ ان پر واجب ولازم تھا کہ اتنا بڑا دعوئی اگر افتر محض تھا اور صدہا کوسوں میں مشہور ہو گیا تھا اس کی رو میں بقيه مضمون مذکورہ بالا ستیارتھ پرکاش میں کسی جگہ نہیں ۔ افسوس اس روز ناحق آپ نے ۷۵ حاشیہ ہمارے اوقات کو ضائع کیا اور اپنی علمی حیثیت کا پردہ پھاڑا اور آج آپ ہی جھوٹے نکلے۔ ہر کہ با صادقاں آویخت آبروئے خود ریخت ۔ اب آپ سوچ لیں کہ آپ کے پنڈت صاحب ویددان نے کیسا ایک ناقص خیال خلاف عقل و خلاف تجارب طبعی و طبابت ظاہر کیا ہے تمام عقلا جانتے ہیں کہ روح کا تعلق صرف بچہ کی والدہ سے نہیں ہوتا بلکہ والد اور والدہ دونوں سے ہوتا ہے اور روحانی اخلاق کا افاضہ بچہ کے وجود پر والدین کی طرف سے ہوتا ہے نہ ان میں سے ایک کی طرف سے ۔ ہاں اگر پنڈت صاحب یہ کہتے کہ روح دو ٹکڑے ہو کر کسی بوٹی وغیرہ پر گرتی ہے جس کو مرد اور عورت دونوں کھا لیتے ہیں اور دونوں منیوں میں روح کا عرق مخلوط ہو جاتا ہے تب بھی کچھ بات تھی مگر اس جگہ یہ شبہ پیدا ہوگا کہ کیا روح آدھی آدھی ہو کر گرتی ہے اور اگر ایسا ہی ہے تو پھر دو ٹکرے