سُرمہ چشم آریہ — Page 133
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۲۱ سرمه چشم آریہ کے دلوں میں اٹھتے ہیں کہ جو خدائے تعالیٰ کو اپنے جیسا ایک ضعیف اور کمزور اور ۷۳) محمد ود الطاقت خیال کر لیتے ہیں اگر خدائے تعالیٰ پر اس قسم کے اعتراضات وارد ہو سکتے ہیں تو پھر کسی طور سے عقل تسلی نہیں پکڑ سکتی کہ یہ بڑے بڑے اجرام علوی وسفلی کیونکر اور کن ہتھیاروں سے اس نے بناڈالے۔ قوله ممالک غیر اور اقوام غیر کی تاریخ میں ایسی بڑی بات کا ذکر ( یعنی شق القمر کاذکر ) ضرور چاہیے۔ اقول میں کہتا ہوں کہ آپ اپنے اس قول سے ملزم ٹھہر سکتے ہیں کیونکہ جس حالت میں چاند کے دو ٹکرہ کرنے کا دعویٰ زور شور سے ہو چکا تھا یہاں تک کہ خاص قرآن شریف میں مخالفوں کو الزام دیا گیا کہ انہوں نے چاند کو دو ٹکرے ہوتے دیکھا اور اعراض کر کے کہا کہ یہ پکا جادو ہے۔ اور پھر یہ دعویٰ نہ صرف عرب میں بلکہ اسی زمانہ میں تمام ممالک روم و شام و مصر و فارس وغیرہ دور دراز ممالک میں پھیل گیا تھا تو اس صورت میں یہ بات کچھ تعجب کا محل نہ تھا کہ مختلف قومیں جو مخالف اسلام تھیں وہ دم بخود اور خاموش رہتیں اور بوجہ عناد بقیه صاحب کی کارروائیوں میں اس قسم کی خیانتیں بہت تھیں کہ ایک بات کو اپنے منہ سے ۷۳) حاشیه نکالنا یا چھپوا دینا اور جب اس کا جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے تو فی الفورمنکر ہو جانا اور پھر طبع شدہ کتاب کی ترمیم کر کے دوسری کتاب چھپوانا۔ اب ہم اصل مقصود کی طرف رجوع کر کے ستیارتھ پر کاش کا وہ مقام لکھتے ہیں جس کے لکھنے کا ماسٹر مرلیدھر صاحب کو وعدہ دیا گیا تھا اور وہ یہ ہے۔ ستیارتھ پرکاش ۱۸۷۵ء آٹھواں سمولاس صفحہ ۲۶۳۔ سوال جنم اور موت وغیرہ کس طرح سے ہوتے ہیں۔ جواب : لنگ شریر یعنی جسم دقیق (روح) اور معمول شریر جسم کثیف باہم مل کر جب ظاہر ہوتے ہیں تب اس کا نام جنم یعنی پیدائش ہوتا ہے۔ اور دونوں کی علیحدگی سے غائب ہو جانے کو موت کہتے ہیں۔ سو اس طرح سے ہوتا ہے کہ روح اپنے اعمال کے نتائج سے گردش کرتی