سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 130 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 130

62۔6 روحانی خزائن جلد ۲ ۱۱۸ سرمه چشم آرید کہ یہ خلاف قانون قدرت ہے اور اگر آپ نے اب تک اس مقدمہ کوغور کر کے نہیں دیکھا تو میں آپ کو توجہ دلاتا ہوں کہ آپ غور سے اس مفید مقام کو پڑھیں کیونکہ ان علمی نکات کے جانے بغیر آپ قانون قدرت کی حقیقت نہیں سمجھ سکتے ۔ قوله شق القمر سے انتظام عالم میں فتور واقعہ ہو جاتا ہے۔ اقول اگر کسی کی خود اپنی ہی عقل میں فتور نہ ہو تو سمجھ سکتا ہے کہ کسی چیز کے ایک نئے خاصہ کا ظہور میں آنا اس کے پہلے خاصہ کے ابطال کے لئے ایک لازمی امر نہیں ہے سو اسی قاعدہ کے رو سے دانشمند لوگ جو خدائے تعالیٰ کی عظیم الشان قدرتوں سے ہمیشہ ہیبت زدہ رہتے ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ حکیم مطلق جس کی حکمتوں کا انتہا نہیں اس کی طرف سے قمر وٹس میں ایسی خاصیت مخفی ہونا ممکن ہے کہ باوجود انشقاق کے ان کے فعل میں فرق بقيه گویا کاتب نے اپنی طرف سے ایک صفحہ معہ دلائل وفوائد لکھ مارا اور پنڈت حاشیه صاحب سوئے رہے انہیں کچھ خبر نہیں۔ پھر شاید عرصہ باراں سال کا یا کچھ کم و بیش ہوا ہوگا کہ پنڈت صاحب نے ایک اشتہار اپنا د تخطی کا ہنپور میں مشتہر کیا تھا کہ اکیس شاستر ایشر کرت یعنی خدا کا کلام ہے۔ پھر رفتہ رفتہ جیسے شاستروں کی خوبیاں پنڈت صاحب پر کھلتی گئیں ان کو انسان کا کلام سمجھتے گئے یہاں تک کہ تھوڑے ہی عرصہ میں چار دید ایشر کرت رہ گئے اور باقی سب انسانی کتا بیں ٹھہرائی گئیں پھر اس کے بعد ویدوں کا حصہ جس کو براہمن کہتے ہیں ان کی نظر میں صحیح ثابت نہیں ہوا تو آخر اس کو بھی ایشر کرت سے باہر کر دیا اور صرف اس کے دوسرے حصہ سنگتا (منتر بہاگ ) کو الہامی سمجھا گیا۔ کاش پنڈت صاحب ایک دو سال اور بھی جیتے تا ان نو خیال آریوں کو چاروں ویدوں سے بھی آزاد کر جاتے ۔ اتھرون وید کا قصہ تو جلد پاک ہو جاتا کیونکہ اس کی نسبت تو پہلے ہی بعض ہندؤں کا