سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 126 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 126

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۱۴ سرمه چشم آرید اعتراض کرتے لیکن اب تو ماسٹر صاحب آپ پر فرض ہو گیا کہ اول اپنے گھر کی باتوں کو (جو صریح خلاف عقل معلوم ہوتی ہیں ) عقل کے رو سے ثابت کر لیں پھر کسی دوسرے پر اعتراض کریں بھلا جس حالت میں آپ کے نزدیک روح بھی ایک بار یک جسم ہے جو اوس یعنے شبنم کی طرح ہو کر آسمان سے گرتی ہے تو آپ پر یہ بھی سوال وارد ہوگا کہ انڈے میں جب بچہ مرجاتا ہے تو وہ کس راہ سے نکل جاتی ہے۔ اور پھر جب اس لاش یا میت میں اندر ہی اندر کیڑے پڑ جاتے ہیں تو وہ کس راہ سے آتے ہیں پانی کے کیڑے اور ہوا کے کیڑے اور پھلوں کے کیڑے کس اوس سے پیدا ہوتے ہیں ہر ایک منصف سمجھ سکتا ہے کہ یہ بات کہنا کہ یہ امر خلاف عقل ہے اس شخص کے لئے حق پہنچتا ہے کہ جس نے اوّل اپنے گھر کی صفائی کر لی ہو لیکن در حقیقت عقائد اسلام میں تو ایک بات بھی خلاف عقل بقیه تحریک کے لائق نہیں بلکہ از قبیل + مشتے کہ بعد از جنگ یاد آید ۔ ہے اگر آپ کو حاشیه چار روز کی بات اب جا کر سو جبھی ہے تو آپ بر وقت شائع کرنے اپنے مضمون کے بطور خود لکھ دیں کہ یہ حوالہ غلط ہے ۔ پھر دیکھا جائے گا۔ اور میں اب بھی کتاب نکال کر دکھلا دیتا لیکن مجھے پتہ یاد نہیں اور نہ میں ناگری پڑھ سکتا ہوں یہ سب عذرات سن کر ماسٹر صاحب نے سراسر مکابرہ کی راہ سے اسی پر ضد کرنا شروع کیا کہ جب تک اس کا تصفیہ نہ ہولے دوسری گفتگو نہیں کر سکتے اس پر مولوی الہی بخش صاحب وکیل نے بھی انہیں بہت سمجھایا کہ اس موقعہ پر گزشتہ قصوں کو لے بیٹھنا بے جا ہے آج کے دن آج ہی کی بحث ہونی چاہیے بھلا اتنی بڑی کتاب جس کا پتہ و مقام خاص یا د نہیں اگر کسی سے پڑھائی بھی جائے تو کیا دو چار روز سے کم میں ختم ہوسکتی ہے اس کے جواب میں لالہ صاحب نے تُند ہوکر ان کو فرمایا کہ کیا آپ عدالتوں میں ایسی ہی وکالتیں کیا کرتے ہیں یہ رعایت کی بات ہے غرض جب دیکھا گیا کہ خدا نے ماسٹر صاحب کی کچھ ایسی ہی سمجھ رکھی ہے