سُرمہ چشم آریہ — Page 127
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۱۵ سرمه چشم آریہ پاکی نہیں جاتی ۔ ہاں بعض امور دقیقه برتر از عقول ناقصہ ہیں جو کمال معرفت کی حالت ۲۷ میں منکشف ہو جاتے ہیں مگر آپ کے مذہب میں تو ہزاروں باتیں خلاف عقل اور خلاف شان الوہیت پائی جاتی ہیں تو پھر آپ دوسروں پر کیونکر اعتراض کر سکتے ہیں ۔ پس اسی قدر کافی ہے۔ ماسٹر صاحب کا جواب الجواب معہ اس کی رڈ کے قوله مرزا صاحب میرے سے حدیث یا آیت مانگتے ہیں اور ساتھ ہی قرآن کی آیت تحریر فرما کر اقرار کرتے ہیں کہ قمر کے دو ٹکرے حضرت نے کئے ۔ اقول صاحب من میں نے چاند کے دو ٹکرے ہونے پر تو آپ سے کسی آیت یا حدیث کہ وہ بہر حال اپنے الٹے کو سیدھا اور دوسرے کے سیدھے کو الٹا خیال کرتے ہیں تو (۶۷) حاشیه قصہ کوتاہ کرنے کی غرض سے ان کو کہا گیا کہ جب ہم یہ بحث شائع کریں گے تو اس مقام پر ستیارتھ پرکاش کا حوالہ بھی ضرور لکھ دیں گے چنانچہ ماسٹر صاحب نے جب تک یہ اقرار تحریری نہ لکھا لیا تب تک صبر نہ آیا سو آج وہ روز ہے جو ہم اس وعدہ کو پورا کریں اور دیکھیں کہ ماسٹر صاحب کس قدر انسانی غیرت کو کام میں لاکر شرمندہ اور منفعل ہوتے ہیں ۔ لیکن اول اس بات کا کھول دینا از بس ضروری ہے کہ جس حالت میں ستیارتھ پر کاش میں وہ مضمون جس کا حوالہ دیا گیا تھا صاف درج تھا تو پھر کیوں ماسٹر صاحب نے اس کے اندراج سے صاف انکار کیا اور اس کے مطالبہ میں اس قدر بے جاضر کی کہ بہت سے وقت کو کھویا جس سے ہمارا حق بالمقابل اعتراض کرنے کا بہت سا ضائع ہوا اس کا سبب تین میں سے ایک ہے یا تو یہ کہ ابھی ماسٹر صاحب کو اپنے مذہب کی کتابوں کی کچھ خبر ہی نہیں صرف دیکھا دیکھی بحث کرنے کا شوق ہو گیا ہے یا دوسرا سبب یہ بھی ہو سکتا ہے