سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 124 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 124

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۱۲ سرمه چشم آرید (۶۴) کی قدرت مطلقہ کو نہ مانا جائے اور حسب اصول تناسخ آریہ صاحبان یہ اعتقاد رکھا جائے کہ جب تک زید نہ مرے بکر ہرگز پیدا نہیں ہو سکتا۔ اس صورت میں تمام خدائی اس کی باطل ہو جاتی ہے بلکہ اعتقاد صحیح اور حق یہی ہے کہ پر میشر کو سرب شکتی مان اور قادر مطلق تسلیم کیا جائے اور اپنے ناقص ذہن اور نا تمام تجربہ کو قدرت کے بے انتہا اسرار کا محک امتحان نہ بنایا جائے ورنہ ہمہ دانی کے دعویٰ پر اس قدر اعتراض وارد ہوں گے اور ایسی خجالتیں اٹھانی پڑیں گی کہ جن کا کچھ ٹھکانا نہیں۔ انسان کا قاعدہ ہے کہ جو بات اپنی عقل سے بلند تر دیکھتا ہے اس کو خلاف عقل سمجھ لیتا ہے حالانکہ بلند تر از عقل ہونا شے دیگر ہے اور خلاف عقل ہونا شے دیگر ۔ بھلا میں ماسٹر صاحب سے پوچھتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ اس بات پر قادر رہتایا نہیں کہ جس قدر اب جرم قمری مشہود ومحسوس ہے اس سے آدھے سے بھی کام لے سکتا اور اگر قادر نہیں تو اس پر عقلی دلیل جو عند العقل تسلیم ہو سکے کون سی ہے اور کس کتاب میں لکھی ہے تو جس حالت میں معجزہ شق القمر میں یہ بات ماخوذ ہے کہ ایک ٹکڑا اپنی حالت معہودہ پر رہا اور ایک اس سے الگ ہو گیا وہ بھی ایک یا آدھ منٹ تک یا اس سے بھی کم ۔ تو اس میں کون سا استبعاد عقلی ہے اور بفرض محال اگر استبعاد عقلی بھی ہو تو ہم کہتے ہیں کہ عقل ناقص انسان کی ہر یک کام ربانی تک کب پہنچ سکتی ہے بھلا آپ ہی بتلا دیں کہ یہ مسئلہ جو آپ کے اصول کے رو سے ستیارتھ پر کاش میں پنڈت دیانند صاحب نے لکھا ہے کہ روح انسانی اوس کی طرح کسی گھاس پات وغیرہ پر گرتی ہے پھر اس کو کوئی عورت کھا لیتی ہے اس سے بچہ پیدا ہوتا ہے یہ کس قدر عقل کے برخلاف اور تمام اطباء اور فلاسفہ کی تحقیق کے مخالف ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ بچہ صرف عورت ہی کی منی سے پیدا نہیں ہوتا ☆ حاشیه لالہ مرلید ھر صاحب ڈرائنگ ماسٹر نے چودھویں مارچ ۱۸۸۶ء کے جلسہ بحث میں جس میں راقم رسالہ بذا کا حق تھا کہ پہلے اپنا اعتراض پیش کرے وقت کو ناحق ضائع کرنے کے لئے گیاراں مارچ ۸۶ء