سُرمہ چشم آریہ — Page 123
روحانی خزائن جلد ۲ " سرمه چشم آرید وَيَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ لے تو اس صورت میں اس وقت کے منکرین پر لازم تھا (۱۳) کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان پر جاتے اور کہتے کہ آپ نے کب اور کس وقت چاند کو دوٹکڑے کیا اور کب اس کو ہم نے دیکھا لیکن جس حالت میں بعد مشہور اور شائع ہونے اس آیت کے سب مخالفین چپ رہے اور کسی نے دم بھی نہ مارا تو صاف ظاہر ہے کہ انہوں نے چاند کو دوٹکڑے ہوتے ضرور دیکھا تھا تب ہی تو ان کو چون و چرا کرنے کی گنجائش نہ رہی غرض یہ بات بہت صاف اور ایک راست طبع محقق کے لئے بہت فائدہ مند ہے کہ قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوئی جھوٹا معجزہ بحوالہ اپنے مخالفوں کی گواہی کے لکھ نہیں سکتے تھے اور اگر کچھ جھوٹ لکھتے تو ان کے مخالف ہم عصر اور ہم شہر اس زمانہ کے اسے کب پیش جانے دیتے ۔ علاوہ اس کے سوچنا چاہئے کہ وہ مسلمان لوگ جن کو یہ آیت سنائی گئی اور سنائی جاتی تھی وہ بھی تو ہزاروں آدمی تھے اور ہر یک شخص اپنے دل سے یہ محکم گواہی پاتا ہے کہ اگر کسی پیر یا مرشد یا پیغمبر سے کوئی امر محض دروغ اور افترا ظہور میں آوے تو سارا اعتقادٹوٹ جاتا ہے اور ایسا شخص ہر ایک شخص کی نظر میں برا معلوم ہونے لگتا ہے، اس صورت میں صاف ظاہر ہے کہ اگر یہ معجزہ ظہور میں نہیں آیا تھا اور افتر محض تھا تو چاہیے تھا کہ ہزار ہا مسلمان جو آنحضرت پر ایمان لائے تھے ایسے کذب صریح کو دیکھ کر یکلخت سارے کے سارے مرتد ہو جاتے لیکن ظاہر ہے کہ ان باتوں میں سے کوئی بات بھی ظہور میں نہیں آئی پس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ معجزہ شق القمر ضر ور وقوع میں آیا تھا۔ ہر ایک منصف اپنے دل میں سوچ کر دیکھ لے کہ کیا تاریخی طور پر یہ ثبوت کافی نہیں ہے کہ معجزہ شق القمر اسی زمانہ میں بحوالہ شہادت مخالفین قرآن شریف میں لکھا گیا اور شائع کیا گیا اور پھر سب مخالف اس مضمون کو سن کر چپ رہے کسی نے تحریر یا تقریر سے اس کا رڈ نہ کیا اور ہزاروں مسلمان اس زمانہ کی رویت کی گواہی دیتے رہے اور یہ بات ہم مکر رلکھنا چاہتے ہیں کہ قدرت اللہ پر اعتراض کرنا خود ایک وجہ سے انکار خدائے تعالیٰ ہے کیونکہ اگر خدائے تعالیٰ القمر : ٣۔٢