سُرمہ چشم آریہ — Page 122
روحانی خزائن جلد ۲ 11+ سرمه چشم آرید کہلاتا ہے اور اگر وہ قادر مطلق نہ ہوتا تو اس کا دنیا میں کوئی کام نہ چل سکتا۔ ہاں یہ شناعت عقلی آریوں کے اکثر عقائد میں جابجا پائی جاتی ہے جس سے ایک طرف تو ان کے اعتقادات سراسر خلاف عقل معلوم ہوتے ہیں اور دوسری طرف خلاف قدرت و عظمتِ الہی بھی جیسے روحوں اور اجزاء صغار عالم کا غیر مخلوق اور قدیم اور انا دی ہونا اصول آریہ سماج کا ہے۔ اور یہ اصول صریح خلاف عقل ہے اگر ایسا ہو تو پر میشر کی طرح ہر ایک چیز واجب الوجود ٹھہر جاتی ہے اور خدائے تعالیٰ کے وجود پر کوئی دلیل قائم نہیں رہتی بلکہ کاروبار دین کا سب کا سب ابتر اور خلل پذیر ہو جاتا ہے کیونکہ اگر ہم سب کے سب خدائے تعالی کی طرح غیر مخلوق اور انادی ہی ہیں تو پھر خدائے تعالیٰ کا ہم پر کونسا حق ہے اور کیوں وہ ہم سے اپنی عبادت اور پرستش اور شکر گزاری چاہتا ہے اور کیوں گناہ کرنے سے ہم کو سزا دینے کو طیار ہوتا ہے اور جس حالت میں ہماری روحانی بینائی اور روحانی تمام قو تیں خود بخو د قدیم سے ہیں تو پھر ہم کو فانی قوتوں کے پیدا ہونے کے لئے کیوں پر میشر کی حاجت ٹھہری۔ غرض خلاف عقل بات اگر تلاش کرنی ہو تو اس سے بڑھ کر اور کوئی بات نہیں جو خدائے تعالیٰ کو اول اپنا خدا کہہ کر پھر اس کو خدائی کے کاموں سے الگ رکھا جائے لیکن جو کام خدائے تعالیٰ کا صرف قدرت سے متعلق ہے اس پر وہ شخص اعتراض کر سکتا ہے کہ اول خدائے تعالی کی تمام قدرتوں پر اس نے احاطہ کر لیا ہو۔ اور اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ مسئله شق القمر ایک تاریخی واقعہ ہے جو قرآن شریف میں درج ہے اور ظاہر ہے کہ قرآن شریف ایک ایسی کتاب ہے جو آیت آیت اس کی بر وقت نزول ہزاروں مسلمانوں اور منکروں کو سنائی جاتی تھی اور اسی کی تبلیغ ہوتی تھی اور صدہا اس کے حافظ تھے مسلمان لوگ نماز اور خارج نماز میں اس کو پڑھتے تھے پس جس حالت میں صریح قرآن شریف میں وارد ہوا کہ چاند دو ٹکڑے ہو گیا اور جب کافروں نے یہ نشان دیکھا تو کہا کہ جادو ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ - وَاِنْ يَّرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا