سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 119 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 119

روحانی خزائن جلد ۲ 1+2 سرمه چشم آریہ اس کو اپنے رنگ میں لے آتی ہے اسی طرح یہ بھی آتشِ محبت الہی کے ایک سخت استیلا (۵۹) سے کچھ کچھ اس طاقت عظمی کے خواص ظاہر کرنے لگتا ہے جو اس پر محیط ہوگئی ہے سو یہ کچھ تعجب کی بات نہیں کہ عبودیت پر ربوبیت کا کامل اثر پڑنے سے اس سے ایسے خوارق ظاہر ہوں۔ بلکہ تعجب تو یہ ہے کہ ایسے اثر کے بعد بھی عبودیت کی معمولی حالت میں کچھ فرق پیدا نہ ہو کیونکہ اگر لو با آگ میں تپانے سے کسی قدر خاصہ آگ کا ظاہر کرنے لگے تو یہ امر سرا سر مطابق قانون قدرت ہے لیکن اگر سخت تپانے کے بعد بھی اسی پہلی حالت پر رہے اور کوئی خاصیت جدید اس میں پیدا نہ ہو تو یہ عند العقل صریح باطل ہے سو فلاسفی تجارب بھی ان خوارق کے ضروری ہونے پر شہادت دے رہے ہیں ۔ یہ افسانہ نہیں اس پر عارفانہ روح لے کر غور کرو۔ کیا بد نصیب وہ شخص ہے جو اس کو افسانہ سمجھے اور غور نہ کرے اس حالت خارقہ کو عارف کا دل جو مبدل ہے خوب شناخت کرتا ہے۔ دنیا اس حالت سے غافل ہے اور انکار کرتی ہے پر وہ جو اس مرتبہ تک پہنچا ہے وہ اس یقینی صداقت کے تصور سے سرور میں ہے۔ یہ تجلیات الہیہ کا ایک دقیق بھید ہے اور اعلیٰ درجہ کا راز معرفت ہے اور انسانی روح کے تعلقات جو در پر دہ وہ اپنے رب کریم سے نہایت نازک اور لا یدرک طور پر واقعہ ہیں وہ اسی نقطہ پر آ کر کھلتے ہیں اور اسی نقطہ پر ایک طرفہ العین کے لئے بندہ کے ہاتھ خدا کے ہاتھ اور اس کی آنکھیں خدا کی آنکھیں اور اس کی زبان خدا کی زبان کہلاتی ہے اور ربوبیت کی چادر ذرہ عبودیت پر پڑ کر اس کو اپنے انوار میں متواری اور اپنی پر زور موجوں کے نیچے گم کر دیتی ہے۔ فلسفیوں کی پر غرور روحیں اس انتہائی مرتبہ کے دریافت کرنے سے بے نصیب کیں اور خدائے عز و جل نے دل کے غریب اور سادہ لوگوں کو یہ حالتیں دکھا دیں اور ان پر وارد کر دیں ۔ وَ ذَلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ اب خلاصہ کلام یہ کہ خدائے تعالیٰ کی ذات میں بہت سی عجائب رحمتیں اور بہت سی نادر وفاداریاں ہیں مگر کھلے کھلے طور پر انہیں پر ظاہر ہوتی ہیں کہ جولوگ اسی کے ہو جاتے ہیں اور اسی کے ہورہتے ہیں اور اس ایک کے پانے کے لئے بہتوں کی جدائی اختیار کرتے ہیں خاک میں گرتے ہیں تا وہ پکڑلے