سُرمہ چشم آریہ — Page 118
1+7 روحانی خزائن جلد ۲ سرمه چشم آرید ۵۸ از لیہ میں سے ہے کوئی امر مستحدث نہیں ہے جو مورد اعتراض ہو سکے گویا قدیم قانون حضرت احدیت جل شانہ اسی طور پر چلا آتا ہے کہ جیسے جیسے انسان کا بھروسا خدائے تعالیٰ پر بڑھتا ہے ایسا ہی اس طرف سے الوہیت کی قدرتوں کی چہکار اور اس کی کرنیں زیادہ سے زیادہ اس پر پڑتی ہیں اور جیسے جیسے اس طرف سے ایک پاک اور کامل تعلق ہوتا جاتا ہے ایسا ہی اس طرف سے بھی کامل اور طیب برکتیں ظاہر و باطن پر اترتی ہیں اور جیسی جیسی محبت الہی کی موجیں عاشق صادق کے دل سے اٹھتی ہیں ایسا ہی اس طرف سے بھی ایک نہایت صاف اور شفاف دریائے محبت کا زور شور سے چھوٹتا ہے اور دائرہ کی طرح اس کو اپنے اندر گھیر لیتا ہے اور اپنے الہی زور سے کھینچ کر کہیں کا کہیں پہنچا دیتا ہے اور جیسا یہ امر صاف صاف ہے ویسا ہی ہمارے نیچر کے مطابق بھی ہے ہم تم بھی جیسے جیسے دوستی اور محبت اور اخلاص میں بڑھتے ہیں تو اس دو طرفہ صفائی محبت کی یہی نشانی ہوا کرتی ہے کہ دونوں طرف سے آثار خلوص و اتحاد و یگانگت کے ظاہر ہوں نہ صرف ایک طرف سے ہو ہر یک دوست اپنے دوست کے ساتھ عوام الناس کی نسبت معاملہ خارق عادت رکھتا ہے جب انسان اپنی پہلی زندگی کی نسبت ایک ایسی نئی زندگی حاصل کرتا ہے جس کو نسبتی طور پر خارق عادت کہہ سکتے ہیں تو اسی دم سے وہی قدیم خدا اپنی تجلیات نادرہ کے رو سے ایک نیا خدا اس کے لئے ہو جاتا ہے اور وہ عادتیں اس کے ساتھ ظہور میں لاتا ہے جو پہلی زندگی کی حالت میں کبھی خیال میں بھی نہیں آئی تھیں۔ خوارق کی کل جس سے عجائبات قدرتیہ حرکت میں آتی ہیں انسان کی تبدیل یافتہ روح ہے اور وہ بچی تبدیلی یہاں تک آثار نمایاں دکھاتی ہے کہ بعض اوقات ایک ایسے طور سے شور محبت دل پر استیلا پکڑتا ہے اور عشق الہی کے پُرزور جذبات اور صدق اور یقین کی سخت کششیں ایسے مقام پر انسان کو پہنچا دیتی ہیں کہ اس عجیب حالت میں اگر وہ آگ میں ڈالا جائے تو آگ اس پر کچھ اثر نہیں کر سکتی اگر وہ شیروں اور بھیڑیوں اور ریچھوں کے آگے پھینک دیا جائے تو وہ اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتے کیونکہ اس وقت وہ صدق اور عشق کے کامل اور قوی تجلیات سے بشریت کے خواص کو پھاڑ کر کچھ اور ہو جاتا ہے اور جس طرح لوہے کے ظاہر و باطن پر آگ مستولی ہوکر