سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 113 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 113

روحانی خزائن جلد ۲ 1+1 سرمه چشم آریہ خدائے تعالیٰ کا قانون قدرت رکھیں مگر ان کے مقلد باعث اپنی خامی اور نا تمامی کے (۵۳) سخت درجہ پر قانونِ قدرت کے قائل بلکہ غلام پائے جاتے ہیں سو یہ اسی مثل کا مصداق ہے کہ در پدر شیرینی بسیار است لیکن پسر گرمی دار است۔ بالخصوص اس زمانہ کے نو آموز لڑکوں میں قانون قدرت کا خیال واجبی حد سے بڑھ گیا ہے اکثر نا مقید اور آوارہ طبع اور ملحدانہ طبیعت کے آدمی ان کم فہم لڑکوں کو بگاڑتے جاتے ہیں جن کی نادانی اور سادہ لوحی رحم کے لائق ہے۔ یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ اگر خواص قدرتیہ کا خاتمہ ہو چکا ہے تو اس کا یہ لازمی نتیجہ ہونا چاہئے کہ آئندہ خواص جدیدہ ظہور میں نہ آویں۔ اور اگر ابھی خاتمہ نہیں ہوا اور نئے انکشافات اور تازہ معلومات کے کھلنے کی امید ہے تو پھر کیوں ایک نئی بات کو سنتے ہی بکری کی طرح انکار میں گردن ہلا دیں خدا نے ان کو یہ سمجھ نہیں دی کہ عجائبات الہی کا میدان جو رنگارنگ اور بے انتہا چشموں اور کہولوں اور آبشاروں سے آبپاشی پودہ نفس ناطقہ انسان کے لئے پر ہے وہ کیونکر تجارب محدودہ کی ظرف تنگ میں سما سکتا ہے اور اگر ایسا فرض بھی کر لیا جائے کہ خدائے تعالیٰ کی قدرتیں اسی حد تک ختم اور خرچ ہو چکی ہیں جو ہمیں معلوم ہے تو پھر اس سے کیونکر خدائے تعالیٰ کا اپنی ذات اور اپنی قدرتوں اور اپنی حکمتوں میں بے انتہا ہونا قائم رہ سکتا ہے اس کی غیر محدود حکمتوں اور قدرتوں کو سمجھنے کے لئے یہی ایک تو راہ ہے کہ ایک ذرہ کے موافق بھی اگر کوئی چیز ہو تو اس پر اگر تمام انسانی عقلیں قیامت تک غور کریں تو اس کے عجائبات کی تہ تک نہیں پہنچ سکتیں کیا جس نے یہ پر بہار آسمان جو مہر و ماہ اور ستاروں کے چراغوں سے سج رہا ہے اور یہ رشک گزارز مین جور نگا رنگ مخلوقات سے آباد ہو رہی ہے بغیر ایک ذرہ مشقت اٹھانے کے صرف اپنے ارادہ سے پیدا کر دیا اس کی قدرتوں کا کوئی انتہا پا سکتا ہے۔ اور یہ بات نہایت ظاہر و بد یہی ہے کہ جب تک علوم وخواص جدیدۃ الظہور کی اس عالم بے ثبات کے ساتھ دُم لگی ہوئی ہے تب تک کوئی دانا اپنے معلومات محدوده و معدودہ کو قانونِ قدرت کے نام سے موسوم نہیں کر سکتا اور خود ہمیں اپنی اس غیر مستقل اور اوباشانہ عادت سے شرمندہ ہونا چاہئے کہ اول ہم کسی بات کے عدم امکان پر ایسا سخت اصرار کریں کہ گویا خدائے تعالیٰ کو اس کی خدائی کے