سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 105 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 105

روحانی خزائن جلد ۲ ۹۳ سرمه چشم آرید نہیں چھوڑا اور نہ ایسا بھروسہ ان پر کرنا عقلمندی ہے۔ خواص جدید الظہور کا ایک عجیب کرشمہ (۴۵) ہے جو ہمیشہ قیاسی علوم کی بربادی اور بے عزتی کرتا رہا ہے اور کرے گا اور جس طرح ہمارے زمانہ نے ایسے علوم جدیدہ پائے جن سے پہلے لوگ بے خبری میں گزر گئے یا باطل کو حق کہتے سو گئے ایسا ہی ممکن بلکہ قرین قیاس ہے کہ آنے والی ذریت اس زمانہ کی غلطیاں نکالے اور وہ باتیں ان پر ظاہر ہوں جو اس زمانہ پر ظاہر نہیں ہوئیں آسمان تو آسمان ہے زمین کے خواص جاننے سے ابھی کب فراغت ہو چکی ہے۔ تو کار زمین را نکو ساختی که با آسمان نیز پرداختی غرض علوم جدیدہ کا سلسلہ منقطع ہوتا نظر نہیں آتا شق القمر کے ایک تاریخی واقعہ سے کیوں اتنا نفرت یا تعجب کرو۔ گزشتہ دنوں میں تو جس کو کچھ تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے ایک یورپین فلاسفر کو سورج کے ٹوٹنے کی ہی فکر پڑ گئی تھی پھر شاید شگاف ہو کر مل گیا ۔ فلاسفروں کو ابھی بہت کچھ سمجھنا اور معلوم کرنا باقی ہے۔ کے آمدی کے پیر شدی۔ ابھی تو نام خدا ہے غنچہ صبا تو چھو بھی نہیں گئی ہے یہ نہایت محقق صداقت ہے کہ ہر یک چیز اپنے اندر ایک ایسی خاصیت رکھتی ہے جس سے وہ خدائے تعالیٰ کی غیر متناہی قدرتوں سے اثر پذیر ہوتی رہی سو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خواص اشیاء ختم نہیں ہو سکتے گو ہم ان پر اطلاع پائیں یا نہ پائیں اگر ایک دانہ خشخاش کے خواص تحقیق کرنے کے لئے تمام فلاسفر اولین و آخرین قیامت تک اپنی دماغی قو تیں خرچ کریں تو کوئی عقلمند ہرگز باور نہیں کرسکتا کہ وہ ان خواص پر احاطہ تام کرلیں سو یہ خیال کہ اجرام علوی یا اجسام سفلی کے خواص جس قدر بذریعہ علم ہیئت یا طبعی دریافت ہو چکے ہیں اسی قدر پر ختم ہیں اس سے زیادہ کوئی ہے مجھی کی بات نہیں۔ اب خلاصہ اس تمام مقد م کا یہ ہے کہ قانون قدرت کوئی ایسی شے نہیں ہے کہ ایک حقیقت ثابت شدہ کے آگے ٹھہر سکے کیونکہ قانون قدرت خدائے تعالیٰ کے ان افعال سے مراد ہے جو قدرتی طور پر ظہور میں آئے یا آئندہ آئیں گے لیکن چونکہ ابھی خدائے تعالیٰ اپنی قدرتوں کے دکھلانے سے تھک نہیں گیا ہے اور نہ یہ کہ اب قدرت نمائی سے بے زور ہوگیا ہے یا سو گیا ہے یا کسی طرف کو