سُرمہ چشم آریہ — Page 106
روحانی خزائن جلد ۲ ۹۴ سرمه چشم آرید (۲۲) کھسک گیا ہے یا کسی خارجی قاسر سے مجبور کیا گیا ہے اور مجبورا آئندہ کے عجائب کاموں سے دستکش ہو گیا ہے اور ہمارے لئے وہی چند صدیوں کی کارگزاری (یا اس سے کچھ زیادہ سمجھ لو) چھوڑ گیا ہے اس لئے ساری عقلمندی اور حکمت اور فلسفیت اور ادب اور تعلیم اسی میں ہے کہ ہم چند موجودہ مشہودہ قدرتوں کو جن میں ابھی صد با طور کا اجمال باقی ہے مجموعہ قوانین قدرت خیال نہ کر بیٹھیں اور اس پر نادان لوگوں کی طرح ضد نہ کریں کہ ہمارے مشاہدات سے خدائے تعالیٰ کا فعل ہر گز تجاوز نہیں کر سکتا کیونکہ یہ صرف احمقانہ دعوی ہے جو ہرگز ثابت نہیں کیا گیا اور نہ ثابت کیا جاسکتا ہے۔ ہم نے مانا کہ مذہب نیچر کا نقیض نہیں ہے مگر یہ آپ کیونکر ہم سے تسلیم کراتے ہیں کہ سب خواص نیچر یہ پر انسان محیط ہو چکا ہے کیا اس پر کوئی دلیل بھی ہے یا نر اتحکم ہی سے مونہہ بند کرنا چاہتے ہیں یہ صاف ظاہر ہے کہ اگر تجارب و مشاہدات جو آج تک قلمبند ہو چکے ہیں صحیح اور کامل ہوتے تو علوم جدیدہ کو قدم رکھنے کی جگہ نہ رہتی حالانکہ آپ لوگ بھی کہا کرتے ہیں کہ علوم جدیدہ کا دروازہ ہمیشہ کے لئے کھلا ہے میں سوچ میں ہوں کہ کیونکر ایسی چیزیں کامل اور قطعی طور پر مقیاس الصداقت یا میزان الحق ٹھہر سکتی ہیں جن کے اپنے ہی پورے طور کے انکشاف میں ابھی بہت سی منازل باقی ہیں اور اس پیچ در پیچ معما نے یہاں تک حکماء کو حیران اور سرگردان کر رکھا ہے کہ بعض ان میں سے حقائق اشیاء کے منکر ہی ہو گئے ( منکرین حقائق کا وہی گروہ ہے جس کو سوفسطائی کہتے ہیں ) اور بعض ان میں سے یہ بھی کہہ گئے کہ اگر چہ خواص اشیاء ثابت ہیں تا ہم دائمی طور پر ان کا ثبوت نہیں پایا جاتا۔ پانی آگ کو بجھا دیتا ہے مگر ممکن ہے کہ کسی ارضی یا سماوی تاثیر سے کوئی چشمہ پانی کا اس خاصیت سے باہر آ جائے آگ لکڑی کو جلا دیتی ہے مگر ممکن ہے کہ ایک آگ بعض موجبات اندرونی یا بیرونی سے اس خاصیت کو ظاہر نہ کر سکے کیونکہ ایسی عجائب باتیں ہمیشہ ظہور میں آتی رہتی ہیں۔ حکماء کا یہ بھی قول ہے کہ بعض تا ثیرات ارضی یا سماوی ہزاروں بلکہ لاکھوں برسوں کے بعد ظہور میں آتی ہیں جو نا واقف اور بے خبر لوگوں کو بطور خارقِ عادت معلوم دیتی ہیں اور کبھی کبھی کسی کسی زمانہ میں ایسا کچھ ہوتا رہتا ہے کہ کچھ عجائبات