سُرمہ چشم آریہ — Page 98
روحانی خزائن جلد ۲ ۸۶ سرمه چشم آرید ۳۸ بات پر ایمان لایا کہ آفتاب اور قمر موجود ہیں اور زمین پر بہت سے جمادات اور نباتات اور حیوانات پائے جاتے ہیں تو ایسا ایمان لانا ایک جنسی کی بات ہے نہ کہ ایمان اور اسی وجہ سے بدیہی اور کھلی کھلی باتوں کو ماننا عند اللہ وعند العقلاء ثواب پانے کا موجب نہیں ٹھہر سکتا بلکہ ایمان وہ شے ہے کہ جن باتوں کو عقل قبول تو کرتی ہے مگر بوجه در پردہ غیب ہونے کے جیسا کہ چاہیے ان کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتی ان باتوں میں اپنی فراست فطرتی سے کچھ ترجیح یعنی آثارِ صداقت دیکھ کر اور کسی قدر دلائل عقلیہ کا غلبہ اس طرف پاکر اور پھر خدا کے کلام کو اس پر شاہد ناطق و صادق معلوم کر کے ان باتوں کو مان لیا جائے یہی ایمان ہے جو ذریعہ خوشنودی خداوند کریم بقیه اور نہ اس کی آنکھ نے دیکھا اور نہ کبھی اس کے دل میں گزرا۔ لیکن اس کے مقابلہ حاشیه پر خشک فلاسفروں کا جھوٹا اور مغشوش فلسفہ جس پر آج کل کے نو تعلیم یافتہ لوگ فریفتہ ہورہے ہیں اور جس کے بدنتائج کی بے خبری نے بہت سے سادہ لوحوں کو بر باد کر دیا ہے ۔ یہ ہے کہ جب تک کسی اصل یا فرع کا قطعی طور پر فیصلہ نہ ہو جائے اور بکلی اس کا انکشاف نہ ہو جائے تب تک اس کو ہرگز مانا نہیں چاہیے گو خدا ہو یا کوئی اور چیز ہو ۔ ان میں سے اعلیٰ درجہ کے اور کامل فلاسفر جنہوں نے ان اصولوں کی سخت پابندی اختیار کی تھی انہوں نے اپنا نام محققین رکھا جن کا دوسرا نام دہر یہ بھی ہے۔ ان کامل فلاسفروں کا یہ پابندی اپنے اصول قدیمہ کے یہ مذہب رہا ہے کہ چونکہ خدائے تعالیٰ کا وجود قطعی طور پر بذریعہ عقل ثابت نہیں ہوسکتا اور نہ ہم نے اس کو بچشم خود دیکھا اس لئے ایسے خدا کا ماننا ایک امر مظنون اور مشتبہ کا مان لینا ہے جو اصول منتظر رہ فلسفہ سے بکلی بعید ہے سو انہوں نے پہلے ہی خدائے تعالیٰ کو درمیان سے اڑایا۔ پھر فرشتوں کا یوں فیصلہ کیا کہ یہ بھی خدائے تعالی کی طرح نظر نہیں آتے چلو یہ بھی درمیان سے اٹھاؤ۔ پھر روحوں کی طرف متوجہ ہوئے اور یہ رائے