سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 96 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 96

روحانی خزائن جلد ۲ ۸۴ سرمه چشم آرید (۳۶) ایمان کے محکم اور استوار زینہ سے عرفان کے بلند مینار تک پہنچتا ہے اور اسی بے خبری کی وجہ سے ان میں اپنے قدم اول میں ہی تجھیل اور جلدی بھری ہوئی ہے اور نہایت شتاب کاری سے علم دین کو ایک ادنی سا کام اور ایک نا کارہ ہنر سمجھ کر یہ ارادہ کر رہے ہیں کہ مذہب کے تمام اصول و فروع کو اپنی ابتدائی حالت میں ہی بغیر انتظار دوسرے حالات مترقبہ کمالات فطرت کے اس طرح پر دریافت کر لیں جیسے کوئی ہندسہ یا حساب کا مسئلہ دریافت کیا جاتا ہے اور اگر کوئی دقیقہ دینی اس حد کے انکشاف تک نہ پہنچ سکے تو اس کی نسبت صاف حکم صادر کر دیں کہ یہ سراسر باطل اور پیرا یہ صداقت سے خالی ہے مگر جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں یہ ایمانی حکمت کا طریق نہیں ہے۔ بقیه فلسفیوں کا طریقہ انبیاء علیہم السلام کے طریقہ سے بہت مختلف ہے نبیوں کے طریق کا حاشیه اصل اعظم یہ ہے کہ ایمان کا ثواب تب مترتب اور ہارور ہوگا کہ جب غیب کی باتوں کو غیب ہی کی صورت میں قبول کیا جائے اور ظاہری جو اس کی کھلی کھلی شہادتیں یا دلائل ہندسیہ کے یقینی اور قطعی ثبوت طلب نہ کئے جائیں کیونکہ تمام و کمال مدار ثواب اور استحقاق قرب وتوصل الہی کا تقویٰ پر ہے اور تقویٰ کی حقیقت وہی شخص اپنے اندر رکھتا ہے جو افراط آمیز تفتیشوں اور لمبے چوڑے انکاروں اور ہر ہر جزئی کی موشگافی سے اپنے تیں بچاتا ہے اور صرف دور اندیشی کے طور سے ایک راہ کی سچائی کا دوسری راہوں پر غلبہ اور رجحان دیکھ کر حسن ظن قبول کر لیتا ہے۔ اسی بات کا نام ایمان ہے اور اسی ایمان پر فیوض الہی کا دروازہ کھلتا ہے اور دنیا و آخرت میں سعادتیں حاصل ہوتی ہیں جب کوئی نیک بندہ ایمان پر محکم قدم مارتا ہے اور پھر دعا اور نماز اور فکر اور نظر سے اپنی حالت علمی میں ترقی چاہتا ہے تو خدائے تعالیٰ خود اس کا متولی ہوکر اور آپ اس کا ہاتھ پکڑ کر درجۂ ایمان سے درجہ عین الیقین تک اس کو پہنچا دیتا ہے۔ مگر یہ سب کچھ بعد استقامت و مجاہدات و