سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 92 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 92

روحانی خزائن جلد ۲ سرمه چشم آرید غور کرنی چاہیے کہ ہمیشہ ثواب اور فیضان سماوی ایمان پر ہی مترتب ہوتا ہے۔ اس راہ کا سچا فلسفہ یہی ہے کہ انسان دین قبول کرنے کی ابتدائی حالت میں اس بے نیاز مطلق اور اس کی قدرت اور اس کے وعد و وعید اور اس کے اخبار واسرار کے ماننے میں لینے لینے انکاروں سے مجتنب رہے کیونکہ ایمانی صورت کے قائم رکھنے کے لئے (جس پر تمام ثواب وابستہ ہے ) ضرور تھا کہ خدائے تعالی امور ایمانیہ کو ایسا منکشف نہ کرتا کہ وہ دوسرے بدیہات کی طرح ہر یک عام اور خاص کی نظر میں مسلم الوجود ہو جاتی ۔ یہ تو سیح ہے کہ انسان مکلف بوجہ عقل ہے نا معقول باتوں کو مان نہیں سکتا اور نہ در حالت انکار قابل الزام ٹھہرتا ہے لیکن خدا تمہیں ہدایت کرے تم خوب سوچ لو کہ خدائے تعالیٰ بھی کسی نا معقول بات پر ( جو عند العقل اس کی قدرت اور طاقت سے بعید ہے ) ایمان لانے کے لئے تمہیں مجبور نہیں کرتا ۔ اور ہمارے کسی لفظ سے یہ نہیں نکلتا کہ تم کسی ایسی بات پر ایمان لاؤ جو فی الحقیقت دور بین نظروں میں نامعقول ہے بلکہ ہماری تقریر کا مدعا اور لب لباب یہ ہے کہ ایمانی امور ایسے ہونے چاہیے کہ جو من وجہ ظاہر اور من وجہ مخفی ہوں اور امکانی طور پر عقل ان کا وجود باور تو کر سکے مگر دوسرے مشہودات بقیه نبیوں کا نام مکار رکھنا دنیا کے برگزیدوں کو بجز اپنے تین یا چار وید کے رشیوں حاشیه نا معلوم الوجود کو جھوٹا اور دغا باز اور ٹھگ قرار دینا انہیں لوگوں کا کام ہے کیا ان لوگوں کے مونہہ سے بجز بدظنیوں اور بد زبانیوں کے کبھی کچھ معارف الہی کے نکات بھی نکلے ہیں ۔ کیا بجز گندی باتوں اور نابکار خیالات یا تحقیر اور تو ہین اور ٹھٹھے اور جنسی اور پر شرارت اور بد بودار لفظوں کے کبھی کوئی دقیق بھید معرفت الہی کا بھی ان کی زبان سے سنا گیا ہے ۔ کیا ان برتنوں سے کبھی کوئی صفادلی کا قطرہ بھی مترشح ہوا ہے یا انہوں نے باطنی پاکیزگی میں کچھ ترقی کی ہے ہرگز نہیں سو جو کچھ وید کا اثر ہے سوظاہر ہے حاجت بیان نہیں ۔ منہ ۔