سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 90 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 90

روحانی خزائن جلد ۲۔ ZA سرمه چشم آرید ۳۰ نجات سے بھی تعبیر کرتے ہیں مگر یہ سب مراتب ایمانی مرتبہ کے بعد ملتے ہیں اور اس پر مترتب ہوتے ہیں۔ جو شخص اپنے ایمان میں قوی ہوتا ہے وہ رفتہ رفتہ ان سب مراتب کو پالیتا ہے لیکن جو شخص ایمانی طریق کو اختیار نہیں کرتا اور ہر یک صداقت کے قبول کرنے سے اول قطعی اور یقینی ۳۰ بقیه تا قیریں تھیں کہ جو ایک گروہ کثیر کو ہزاروں ظلمتوں سے نکال کر نور کی طرف لے آئیں حاشیه بلاشبہ یہ قرآنی تاثیریں خارق عادت ہیں کیونکہ کوئی دنیا میں بطور نظیر نہیں بتلا سکتا کہ کبھی کسی کتاب نے ایسی تاثیر کی ۔ کون اس بات کا ثبوت دے سکتا ہے کہ کسی کتاب نے ایسی عجیب تبدیل و اصلاح کی جیسی قرآن شریف نے کی وید تو خود تهیدست ہے اور ایک شخص بھی ثابت نہیں ہوسکتا کہ جو بھی اور کسی زمانہ میں بذریعه تاثیرات و ید کمالات باطنی تک پہنچا ہو اور اس قدر تو وید کے پیرو خود اقرار کرتے ہیں کہ صرف وید کے چار رشی کمال تک پہنچے ہیں وبس مگر چار کا کامل ہونا بھی بے ثبوت ہے بیچ تو یہ ہے کہ وید کے ماننے والوں کو کبھی اس قدر بھی نصیب نہیں ہوا کہ خدائے تعالی کو واحد لا شریک مان کر مبدء جمیع فیوض کا سمجھیں اور اسی کے کامل القدرت ہاتھ کو ہر یک وجود کا موجد قرار دیں اور اس کے بھائی بند نہ بن بیٹھیں اگر کوئی شخص اس بات کو بر اما نہیں تو اسی کی گردن پر ہے کہ تاثیرات طبیبہ وید کو ثابت کر کے دکھلا دے اور ان الزاموں کو اس کے سر پر سے اٹھا دے۔ جن سے ہندوؤں کے پر میٹر کی کچھ بھی عزت باقی نہ رہی ہمیں وید سے کوئی بے وجہ عناد نہیں مگر ہم سچ سچ کہتے ہیں اور ہم اپنے خدائے قادر مطلق کو گواہ رکھ کر بیان کرتے ہیں کہ ہمارا اور کسی خدا ترس کا دلی انصاف اس بات کو ہرگز قبول نہیں کر سکتا کہ جس کامل ذات کے برکت وجود سے ذرہ ذرہ قائم ہے اور جو تمام دنیا کا مالک کہلاتا ہے اس کی بادشاہی صرف دوسروں کے سہارے سے چلی آتی ہے نہ اپنی قدرت خاصہ سے اور تمام روحیں اور اجسام یونہی اتفاق اور قسمت سے اس کو مل گئے ہیں نہ آپ پیدا کرنے سے اور اس کی خدائی اتفاقی ہے نہ حقیقی۔ اب دید سے مونہہ پھیر کر قرآن شریف کی طرف دیکھنا چاہیے کہ کیسی پاک تا شیریں رکھتا ہے