سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 89 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 89

روحانی خزائن جلد ۲۔ LL سرمه چشم آرید دل پر بکلی احاطہ کر کے ہر ایک ظلمت و قبض و تنگی کو درمیان سے اٹھا دیں یاں تک کہ بوجہ کمال ﴿۲۹﴾ رابطه عشق و محبت و بباعث انتہائی جوش صدق وصفا کی بلا اور مصیبت بھی محسوس اللذت و مدرک الحلاوت ہو تو اس درجہ کا نام اطمینان ہے جس کو دوسرے لفظوں میں حق الیقین اور فلاح اور بقیه طریقوں میں انتہائی درجہ تک پہنچ جانا اور چوری اور قزاقی اور خون ریزی اور دختر کشی (۲۹) حاشیه اور یتیموں کا مال کھا جانے اور بیگا نہ حقوق دبالینے کو کچھ گناہ نہ سمجھنا۔ غرض ہر ایک طرح کی بُری حالت اور ہر یک نوع کا اندھیرا اور ہر قسم کی ظلمت و غفلت عام طور پر تمام عربوں کے دلوں پر چھائی ہوئی ہونا ایک ایسا واقعہ مشہورہ ہے کہ کوئی متعصب مخالف بھی بشرطیکہ کچھ واقفیت رکھتا ہو اس سے انکار نہیں کر سکتا اور پھر یہ امر بھی ہر ایک منصف پر ظاہر ہے کہ وہی جاہل اور وحشی اور یاوہ اور نا پارس طبع لوگ اسلام میں داخل ہونے اور قرآن کو قبول کرنے کے بعد کیسے ہو گئے اور کیونکر تا شیرات کلام الہی اور صحبت نبی معصوم نے بہت ہی تھوڑے عرصہ میں ان کے دلوں کو یکلخت ایسا مبدل کر دیا کہ وہ جہالت کے بعد معارف دینی سے مالا مال ہو گئے اور محبت دنیا کے بعد الہی محبت میں ایسے کھوئے گئے کہ اپنے وطنوں اپنے مالوں اپنے عزیزوں اپنی عزتوں اپنی جان کے آراموں کو اللہ جل شانہ کے راضی کرنے کے لئے چھوڑ دیا۔ چنانچہ یہ دونوں سلسلے ان کی پہلی حالت اور اس نئی زندگی کے جو بعد اسلام انہیں نصیب ہوئے قرآن شریف میں ایسی صفائی سے درج ہیں کہ ایک صالح اور نیک دل آدمی پڑھنے کے وقت بے اختیار چشم پر آب ہو جاتا ہے ۔ پس وہ کیا چیز تھی جو ان کو اتنی جلدی ایک عالم سے دوسرے عالم کی طرف کھینچ کر لے گئی وہ دو ہی باتیں تھیں ایک یہ کہ وہ نبی معصوم اپنی قوت قدسیہ میں نہایت ہی قوی الاثر تھا ایسا کہ نہ کبھی ہوا اور نہ ہو گا ۔ دوسری خدائے قادر مطلق حتی قیوم کے پاک کلام کی زبر دست اور عجیب