سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 88 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 88

روحانی خزائن جلد ۲ ۷۶ سرمه چشم آرید لفظوں میں عین الیقین اور ہدایت اور بصیرت کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے۔ اور جب ان تمام مراتب کی شدت اثر سے عارف کے دل میں ایک ایسی کیفیت حالی عشق اور محبت کے باذنہ تعالی پیدا ہو جائے کہ تمام وجود عارف کا اس کی لذت سے بھر جائے اور آسمانی انوار اس کے بقیہ سب مقاصد کو پالیں گے مگر اس جگہ یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ اگر چہ یہ علوم کسی طور پر حاشیہ بھی لوگ حاصل کرتے ہیں لیکن ایک اُمّی محض جو سخت تاریکی اور جہالت کے زمانہ میں ایک جنگلی ملک میں پیدا ہوا جس نے مکتب میں ایک حرف نہ پڑھا اور فلاسفہ سے کبھی مخالفت نہ ہوئی اور منطق اور طبعی اور ہیئت اور علم نفس وغیرہ کا اپنے پر جہالت ملک میں نام بھی نہ سنا اس سے یہ چشمہ فیض کامل اور صحیح طور پر جوش مارنا ایسا کہ کوئی فلسفی اس پر سبقت نہ لے جاسکے بہ بداہت عقل خارق عادت ہے۔ جو شخص بالکل ان پڑھ ہو کر ایسے بے مثل طور پر حقائق عالیہ فلسفه وطبعی و هیئت و علم خواص روح و معارف دین بغیر کسی کے سکھائے اور پڑھائے کے بیان کرے تو اس کے معجزہ ہونے میں کسی دانا اور منصف مزاج کو تامل نہیں ہو سکتا ۔ تیسرا دروازہ معرفت الہی کا جو قرآن شریف میں اللہ جل شانہ نے اپنی عنایت خاص سے کھول رکھا ہے برکات روحانیہ ہیں جس کو اعجاز تاثیری کہنا چاہیے ۔ یہ بات کسی سمجھدار پر مخفی نہیں ہوگی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زاد بوم ایک محدود جزیرہ نما ملک ہے جس کو عرب کہتے ہیں جو دوسرے ملکوں سے ہمیشہ بے تعلق رہ کر گویا ایک گوشہ تنہائی میں پڑا رہا ہے۔ اس ملک کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے بالکل وحشیانہ اور درندوں کی طرح زندگی بسر کرنا اور دین اور ایمان اور حق اللہ اور حق العباد سے بے خبر محض ہونا اور سینکڑوں برسوں سے بت پرستی و دیگر نا پاک خیالات میں ڈوبے چلے آنا اور عیاشی اور بدمستی اور شراب خواری اور قمار بازی وغیرہ فسق کے