سُرمہ چشم آریہ — Page 86
روحانی خزائن جلد ۲ ۷۴ سرمه چشم آرید ۲۶ واشگاف ثبوت کے دلی انشراح سے قبولیت و تسلیم ظاہر کی جائے لیکن جب ایک خبر کی صحت پر وجودہ کا ماله قیاسیہ اور دلائل کا فیہ عقلیہ مل جائیں تو اس بات کا نام ایقان ہے جس کو دوسرے لفظوں میں علم الیقین بھی کہتے ہیں اور جب خدائے تعالیٰ خود اپنے خاص جذ بہ اور موہت سے خارق عادت ۲۶ بقیه سنتے ہی انکار کر دیں لیکن ظاہر ہے کہ صرف اس بات کے کہنے سے کہ ہم نہیں مانتے حاشیه یا ہم اس کو خلاف عقل یا خلاف قانون قدرت سمجھتے ہیں امر متنازعہ فیہ انفصال نہیں پاتا اور صداقت پسندوں کا یہ طریق ہرگز نہیں ۔ ایک شخص کو ایک امر متنازعہ فیہ کے اثبات کے لئے میدان میں کھڑے دیکھ کر اور آواز پر آواز مارتے سن کر پھر اس کی طرف رخ نہ کریں اسے آزما کر نہ دیکھ لیں اور دور بیٹھے یونہی کہتے رہیں کہ اس کی یہ باتیں جھوٹ اور بے اصل ہیں کیا یہ شیوہ کسی واقعی راست باز کا ہو سکتا ہے۔ ہر گز نہیں ہرگز نہیں۔ دوسرا دروازہ معرفت الہی کا جو قرآن شریف میں نہایت وسیع طور پر کھلا ہوا ہے دقائق علمیہ ہیں جس کو بوجہ خارق عادت ہونے کے علمی اعجاز کہنا چاہیے وہ علوم کئی قسم کے ہیں اول علم معارف دین یعنے جس قدر معارف عالیہ دین اور اس کی پاک صداقتیں ہیں اور جس قدر نکات و لطائف علم الہی ہیں جن کی اس دنیا میں تکمیل نفس کے لئے ضرورت ہے ایسا ہی جس قدر نفس امارہ کی بیماریاں اور اس کے جذبات اور اس کی دوری یا دائمی آفات ہیں یا جو کچھ ان کا علاج اور اصلاح کی تدبیریں ہیں اور جس قدر تزکیہ و تصفیہ نفس کے طریق ہیں اور جس قدر اخلاق فاضلہ کے انتہائی ظہور کی علامات و خواص و لوازم ہیں یہ سب کچھ باستیفا ئے تام فرقان مجید میں بھرا ہوا ہے اور کوئی شخص ایسی صداقت یا ایسا نکتہ البہیہ یا ایسا طریق وصول الی اللہ یا کوئی ایسا نادر یا پاک طور مجاہدہ و پرستش الہی کا نکال نہیں سکتا جو اس پاک کلام میں درج نہ ہو ۔ دوسرے علم خواص روح و علم نفس ہے جو ایسے احاطہ تام سے اس