سُرمہ چشم آریہ — Page 81
روحانی خزائن جلد ۲ ۶۹ سرمه چشم آرید مالک سے دلی محبت رکھتے ہیں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ خودان کو وہی ان کی سچی محبت یہ طریق ۲ ادب سکھا دے گی کہ ذات جامع الکمالات حضرت احدیت کے علم کے ساتھ اپنے محدود علم کو برابر جاننا اور اس کی ازلی ابدی قدرتوں کو اپنے مشاہدات یا معلومات سے زیادہ نہ سمجھنا بہت برا بقیه و معاملات و اخلاق جو انتہائی درجہ پر اس سے صادر ہوتے ہیں وہ سب خارق عادت 1 حاشیہ ہی ہو جاتے ہیں سو بمقابل اس کے ایسا ہی معاملہ باری تعالیٰ کا بھی اس مبدل نام سے بطور خارق عادت ہی ہوتا ہے سو چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبدل تام اور سید المبدلین اور امام المطہرین تھے جن کو قادر مطلق نے اپنے ہاتھ سے صاف کیا تھا اس لئے تمام سرا پا وجود ان کے کا حقیقت میں معجزہ ہی تھا اور ضرور تھا کہ ایسے عالی شان نبی پر جو کلام نازل ہوا تھا وہ باعث تبدل تام اس کے غایت درجہ کا خارق عادت ہوتا جس سے تمام اولین آخرین کی نظر میں خیرہ رہ جاتیں کیونکہ اگر چہ کلام الہی فی ذاتہ کلام انسانی سے ایسا ہی ممیز ہے جیسا خدا انسان سے تمیز نام رکھتا ہے لیکن باوجود اس کے فیضان وحی حسب استعداد و حالت صفوت و اخلاق فاضله و ملکات صالحہ وحی یاب ہوا کرتا ہے اور اسی کی طرف ایک روحانی اشارہ ہے جو قرآن شریف میں پایا جاتا ہے یعنی یہ کہ وہ پاک کلام بہت سے فرشتوں کی حفاظت کے ساتھ اترا ہے۔ سو ظا ہری فرشتے تو معلوم ہی ہیں مگر پاک اخلاق اور پاکیزہ حالتیں اور شوق و ذوق سے بھری ہوئی وارداتیں اور درد دل اور جوش محبت اور صدق و صفا و تقتل و وفا و توکل و رضا و نیستی وقتا اور شورش ہائے عشق مولی ایک قسم کے فرشتے ہی ہیں جو قادر مطلق نے اپنے اس محبوب افضل الرسل کے وجود میں اکمل واتم طور پر پیدا کئے تھے اور پھر اس کے اتباع سے ہر یک مومن کامل کے دل میں بھی باز نہ تعالی پیدا ہو جاتے ہیں اور اگر چہ عام مومنوں میں بھی جو ابھی حالت کمالیہ تک نہیں پہنچے