سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 80 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 80

روحانی خزائن جلد ۲ ۶۸ سرمه چشم آرید ۲۰ اور نہ آ گے کو اس کی لیاقت و طاقت ایسی نظر آتی ہے کہ اس مالک الملک کے وراء الوراء بھیدوں کے ایک چھوٹے سے رقبہ زمین کی طرح پیمائش کر سکے یا کسی ایک چیز کے جمیع خواص پر احاطہ کرنے کا دم مار سکے مجھے ان صاف باطن لوگوں کے آگے منطقی دلائل کی حاجت نہیں جو اپنے اس پیارے ۲۰ بقیه ہو کر اکثر حصہ دنیا میں پھیل گیا اور ہر یک موقعہ پر کیا کیا عجیب تائیدات الہیہ اس کی حاشیه حمایت میں ظہور میں آتی رہیں۔ اب ہم بیرونی معجزات کا بیان (جو اعجازی تصرفات ہیں ) اسی قدر کافی سمجھ کر ان معجزات کی تشریح کچھ زیادہ کرنا چاہتے ہیں جو قرآن شریف کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں اور اس کی بطنی اور نفسی خاصیتیں ہیں کیونکہ اس قسم کے معجزات بباعث دائی شہود اور وجود کے قومی الاثر ہیں جن کو ہر ایک طالب صادق اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے اور ہر یک منصف کی نظر میں بالضرورت قابل یقین ٹھہر سکتے ہیں ۔ سواؤل جانا چاہیے کہ معجزہ عادات الہیہ میں سے ایک ایسی عادت یا یوں کہو کہ اس قادر مطلق کے افعال میں سے ایک ایسا فعل ہے جس کو اضافی طور پر خارق عادت کہنا چاہیے لپس امر خارق عادت کی حقیقت صرف اس قدر ہے کہ جو پاک لوگ عام طریق و طرز انسانی سے ترقی کر کے اور معمولی عادات کو پھاڑ کر قرب الہی کے میدانوں میں آگے قدم رکھتے ہیں تو خدائے تعالیٰ حسب حالت ان کے ایک ایسا عجیب معاملہ ان سے کرتا ہے کہ وہ عام حالات انسانی پر خیال کرنے کے بعد ایک امر خارق عادت دکھائی دیتا ہے اور جس قدر انسان اپنی بشریت کے وطن کو چھوڑ کر اور اپنے نفس کے حجابوں کو پھاڑ کر عرصات عشق و محبت میں دور تر چلا جاتا ہے اسی قدر یہ خوارق نہایت صاف اور شفاف اور روشن و تا بان ظہور میں آتے ہیں۔ جب تزکیہ نفس انسانی کمال تام کی حالت پر پہنچتا ہے اور اس کا دل غیر اللہ سے بالکل خالی ہو جاتا ہے اور محبت الہی سے بھر جاتا ہے تو اس کے تمام اقوال و افعال و اعمال و حرکات وسکنات وعبادات