سُرمہ چشم آریہ — Page 76
روحانی خزائن جلد ۲ ۶۴ سرمه چشم آرید 1 میں کیا کیا قدرتیں ظاہر کرے گا۔ کیا وہ جدید در جدید قدرتوں کے ظاہر کرنے پر قادر ہوگایا کو ہلو کے بیل کی طرح انہیں چند قدرتوں میں مقید اور محصور رہے گا جن کو ہم دیکھ چکے ہیں اور جن پر ہمارا بخوبی احاطہ ہے اور اگر انہیں میں مقید اور محصور رہے گا تو با وجود اس کے غیر محمد ووالوہیت اور قدرت اور طاقت کے یہ مقید اور محصور رہنا کس وجہ سے ہوگا کیا وہ آپ ہی وسیع قدرتوں کے دکھلانے سے عاجز آئے گا یا کسی دوسرے قاسر نے اس پر جبر کیا ہوگا یا اس کی خدائی کو انہیں چند قسم کی قدرتوں سے قوت پہنچتی ہے اور دوسری قدرتوں کے ظاہر کرنے سے اس پر زوال آتا ہے بہر حال اگر ہم خدائے تعالیٰ کی قدرتوں کو غیر محدود مانتے ہیں تو یہ جنون اور دیوانگی ہے کہ اس کی قدرتوں پر احاطہ کرنے کی امید رکھیں کیونکہ اگر وہ ہمارے مشاہدہ کے پیمانہ میں محدود ہو سکیں تو پھر غیر محدود اور غیر متناہی کیونکر رہیں اور اس صورت میں نہ صرف یہ نقص پیش آتا ہے کہ ہمارا فانی اور ناقص تجر بہ خدائے ازلی و ابدی کی تمام قدرتوں کا حد بست کرنے والا ہوگا بلکہ ایک بڑا بھاری نقص یہ بھی ہے کہ اس کی بقيه مندرج ہیں۔ ایک نوع تو یہی کہ جو دعائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خدائے تعالیٰ حاشیه نے آسمان پر اپنا قادرانہ تصرف دکھلایا اور چاند کو دوٹکڑے کر دیا۔ دوسرے وہ تصرف جو خدائے تعالیٰ نے جناب ممدوح کی دعا سے زمین پر کیا اور ایک سخت قحط سات برس تک ڈالا ۔ یہاں تک کہ لوگوں نے ہڈیوں کو پیس کر کھایا۔ تیسرے وہ تصرف اعجازی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شر کفار سے محفوظ رکھنے کے لئے بروز ہجرت کیا گیا یعنی جبکہ کفار مکہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ جل شانہ نے اپنے اس پاک نبی کو اس بد ارادہ کی خبر دے دی اور مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کر جانے کا حکم فرمایا اور پھر فتح و نصرت واپس آنے کی بشارت دی بدھ کا روز اور دو پہر کا وقت اور تختی گرمی کے دن تھے جب یہ ابتلا منجانب اللہ ظاہر ہوا اس مصیبت کی حالت میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک نا گہانی طور پر اپنے