سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 77 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 77

روحانی خزائن جلد ۲ سرمه چشم آرید قدرتوں کے محدود ہونے سے وہ خود بھی محدود ہو جائے گا اور پھر یہ کہنا پڑے گا کہ جو کچھ خدائے تعالیٰ کی حقیقت اور گنہ ہے ہم نے سب معلوم کر لی ہے اور اس کے گہراؤ اور تہ تک ہم پہنچ گئے ہیں اور اس کلمہ میں جس قدر کفر اور بے ادبی اور بے ایمانی بھری ہوئی ہے وہ ظاہر ہے حاجت بیان نہیں سو ایک محدود زمانہ کے محدود در محدو د تجارب کو پورا پورا قانون قدرت خیال کر لینا اور اس پر غیر متناہی سلسلہ قدرت کو ختم کر دینا اور آئندہ کے نئے اسرار کھلنے سے نا امید ہو جانا ان پست نظروں کا نتیجہ ہے جنہوں نے خدائے ذوالجلال کو جیسا کہ چاہیے شناخت نہیں کیا اور جو اپنی فطرت میں نہایت منقبض واقعہ ہوئے ہیں یاں تک کہ ایک کنوئیں کی مینڈک ہو کر یہ خیال کر رہے ہیں کہ گویا ایک سمندر نا پیدا کنار بقیه قدیمی شہر کو چھوڑنے لگے اور مخالفین نے مارڈالنے کی نیت سے چاروں طرف سے ۱۷ حاشیه اس مبارک گھر کو گھیر لیا تب ایک جانی عزیز جس کا وجود محبت اور ایمان سے خمیر کیا گیا تھا۔ جانبازی کے طور پر آنحضرت کے بستر پر باشارہ نبوی اس غرض سے مونہہ چھپا کر لیٹ رہا کہ تا مخالفوں کے جاسوس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نکل جانے کی کچھ تفتیش نہ کریں اور اسی کو رسول اللہ سمجھ کر قتل کرنے کے لئے ٹھہرے رہیں۔ کس بہر کسے سرند ہر جان نفشاند عشق است که این کار بصد صدق کناند سو جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس وفادار اور جان نثار عزیز کو اپنی جگہ چھوڑ کر چلے گئے تو آخر تفتیش کے بعد ان نالائق بد باطن لوگوں نے تعاقب کیا اور چاہا کہ راہ میں کسی جگہ پا کر قتل کر ڈالیں اس وقت اور اس مصیبت کے سفر میں بجز ایک با اخلاص اور یکرنگ اور دلی دوست کے اور کوئی انسان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نہ تھا۔ ہاں ہر وقت اور نیز اس پر خطر سفر میں وہ مولی کریم ساتھ تھا جس نے اپنے اس کامل وفادار بندہ کو ایک عظیم الشان اصلاح کے لئے دنیا میں بھیجا تھا سو اس نے اپنے اس پیارے بندہ کو محفوظ رکھنے کے لئے بڑے بڑے عجائب تصرفات اس راہ میں دکھلائے