سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 75 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 75

روحانی خزائن جلد ۲ ۶۳ سرمه چشم آریہ الوہیت وابستہ اور اسی سے ترقیات علمیہ کا ہمیشہ کے لئے دروازہ کھلا ہوا ہے تو پھر کس قدر غلطی ۱۵۶ کی بات ہے کہ ہم یہ ناکارہ حجت پیش کریں کہ جو امر ہماری سمجھ اور مشاہدہ سے باہر ہے وہ قانون قدرت سے بھی باہر ہے بلکہ جس حالت میں ہم اپنے مونہہ سے اقرار کر چکے کہ قوانین قدرتیہ غیر متناہی اور غیر محدود ہیں تو پھر ہمارا یہ اصول ہونا چاہئے کہ ہر ایک نئی بات جو ظہور میں آوے پہلے ہی اپنی عقل سے بالا تر دیکھ کر اس کو رد نہ کریں بلکہ خوب متوجہ ہو کر اس کے ثبوت یا عدم ثبوت کا حال جانچ لیں اگر وہ ثابت ہو تو اپنے قانون قدرت کی فہرست میں اس کو بھی داخل کر لیں اور اگر وہ ثابت نہ ہو تو صرف اتنا کہہ دیں کہ ثابت نہیں مگر اس بات کے کہنے کے ہم ہرگز مجاز نہیں ہوں گے کہ وہ امر قانون قدرت سے باہر ہے بلکہ قانون قدرت سے باہر کسی چیز کو سمجھنے کے لئے ہمارے لئے پر ضرور ہے کہ ہم ایک دائرہ کی طرح خدائے تعالیٰ کے تمام قوانین ازلی و ابدی پر محیط ہو جائیں اور بخوبی ہمارا فکر اس بات پر احاطہ تام کر لے کہ خدائے تعالیٰ نے روز ازل سے آج تک کیا کیا قدرتیں ظاہر کیں اور آئندہ اپنے ابدی زمانہ اُس کے افروختہ ہونے کی ہیں اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے۔ لَوْ أَنْزَلْنَا هَذَا الْقُرْآنَ (10) بقیه حاشیه عَلَى جَبَلٍ أَرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُتَصَدِّعًا مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ۔ کہنے یہ قرآن جو تم پر اتارا گیا اگر کسی پہاڑ پر اتارا جاتا تو وہ خشوع اور خوف الہی سے ٹکڑہ لکڑہ ہو جاتا اور یہ مثالیں ہم اس لئے بیان کرتے ہیں کہ تا لوگ کلام الہی کی عظمت معلوم کرنے کے لئے غور اور فکر کریں۔ یہ تو قرآن شریف میں ان اعجازی کمالات کا ذکر ہے جو خود اس کے نفس نفیس میں پائے جاتے ہیں لیکن بایں ہمہ تصرفات خارجیہ کے اعجاز بھی قرآن شریف میں بکثرت درج ہیں اور اس قسم کے معجزات جمال قرآنی کے لئے بطور اس زیور کے ہیں جو خوبوں کو پہنایا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ نفس خوبصورتی زیور کے محتاج نہیں گو اس سے حسن کی آب و تاب کسی قدر اور بڑھ جاتی ہے۔ اس جگہ واضح رہے کہ تصرفات خارجیہ کے معجزات قرآن شریف میں کئی نوع پر الحشر : ٢٢