ستارہ قیصرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 124 of 769

ستارہ قیصرہ — Page 124

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۲۴ ستاره قیصره تہ اور ایک مدت تک کوہ نعمان میں رہے اور پھر کشمیر میں آئے اور ایک نوابیس برس کی عمر پا کر سری نگر میں آپ کا انتقال ہوا اور سری نگر محلہ خان یار میں آپ کا مزار ہے چنانچہ اس بارے میں میں نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے مسیح ہندوستان میں ایک بڑی فتح ہے جو مجھے حاصل ہوئی ہے اور میں جانتا ہوں کہ جلد تر یا کچھ دیر سے اس کا یہ نتیجہ ہوگا کہ یہ دو بزرگ تو میں عیسائیوں اور مسلمانوں کی جو مدت سے بچھڑی ہوئی ہیں باہم شیر وشکر ہو جائیں گی اور بہت سے نزاعوں کو خیر باد کہہ کر محبت اور دوستی سے ایک دوسرے سے ہاتھ ملائیں گی۔ چونکہ آسمان پر یہی ارادہ قرار پایا ہے اس لئے ہماری گورنمنٹ انگریزی کو بھی قوموں کے اتفاق کی طرف بہت توجہ ہوگئی ہے جیسا کہ قانون سڈیشن کے بعض دفعات سے ظاہر ہے۔ اصل بھید یہ ہے کہ جو کچھ آسمان پر خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک تیاری ہوتی ہے زمین پر بھی ویسے ہی خیالات گورنمنٹ کے دل میں پیدا ہو جاتے ہیں ۔ غرض ہماری ملکہ معظمہ کی نیک نیتی کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے آسمان سے یہ اسباب پیدا کر دیئے ہیں کہ دونوں قوموں عیسائیوں اور مسلمانوں میں وہ اتحاد پیدا ہو جائے کہ پھر ان کو دو قوم نہ کہا جائے ۔ اب اس کے بعد مسیح علیہ السلام کی نسبت کوئی عظمند یہ عقیدہ ہر گز نہیں رکھے گا کہ نعوذ باللہ کسی وقت اُن کا دل لعنت کی زہر ناک کیفیت سے رنگین ہو گیا تھا کیونکہ لعنت مصلوب ہونے کا نتیجہ تھا ۔ پس جبکہ مصلوب ہونا ثابت نہ ہوا بلکہ یہ ثابت ہوا کہ آپ کی ان دعاؤں کی برکت سے جو ساری رات باغ میں کی گئی تھیں اور فرشتے کی اُس منشاء کے موافق جو پلاطوس کی بیوی کے خواب میں حضرت مسیح علیہ السلام کے بچاؤ کی سفارش کے لئے