ستارہ قیصرہ — Page 125
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۲۵ ستاره قیصره ☆ ظاہر ہوا تھا اور خود حضرت مسیح علیہ السلام کی اس مثال کے موافق جو آپ نے یونس نبی کا تین دن مچھلی کے پیٹ میں رہنا اپنے انجام کار کا ایک نمونہ ٹھہرایا تھا آپ کو خدا تعالیٰ نے صلیب اور اس کے پھل سے جو لعنت ہے نجات بخشی اور آپ کی یہ دردناک آواز کہ ایلی ایلی لما سبقتانی جناب الہی میں سنی گئی۔ یہ وہ کھلا کھلا ثبوت ہے جس سے ہر ایک حق کے طالب کا دل بے اختیار خوشی کے ساتھ اچھل پڑے گا۔ سو بلاشبہ یہ ہماری ملکہ معظمہ (۱۲) قیصرہ ہند کی برکات کا ایک پھل ہے جس نے حضرت مسیح علیہ السلام کے دامن کو تخمینا انیس سو برس کی بے جا تہمت سے پاک کیا۔ اب میں مناسب نہیں دیکھتا کہ اس عریضہ نیاز کوطول دوں ۔ گو میں جانتا ہوں کہ جس قدر میرے دل میں یہ جوش تھا کہ میں اپنے اخلاص اور اطاعت اور شکر گزاری کو حضور قیصرہ ہند دام ملکہا میں عرض کروں ۔ پورے طور پر میں اس جوش کو ادا نہیں کر سکا نا چار دعا پر ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ جو زمین و آسمان کا مالک اور نیک کاموں کی نیک جزا دیتا ہے وہ آسمان پر سے اس محسنہ قیصرہ ہند دام ملکہا کو ہماری طرف سے نیک جزا دے اور وہ فضل اُس کے شامل حال کرے جو نہ صرف دنیا تک محدود ہو بلکہ سچی اور دائمی خوشحالی جو یہ بات کسی طرح قبول کے لائق نہیں اور اس امر کوکسی دانشمند کا کانشنس قبول نہیں کرے گا کہ خدا تعالیٰ کا تو یہ ارادہ مصمم ہو کہ مسیح کو پھانسی دے مگر اس کا فرشتہ خواہ نخواہ مسیح کے چھوڑانے کے لئے تڑپتا پھرے ۔ کبھی پلا طوس کے دل میں مسیح کی محبت ڈالے اور اُس کے منہ سے یہ کہلا دے کہ میں یسوع کا کوئی گناہ نہیں دیکھتا اور بھی پل طوس کی بیوی کے پاس خواب میں جاوے اور اُس کو کہے کہ اگر یسوع مسیح پھانسی مل گیا تو پھر اس میں تمہاری خیر نہیں ۔ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ فرشتہ کا خدا سے اختلاف رائے۔ منہ ترجمہ یہ ہے کہ اے میرے خدا۔ اے میرے خدا تو نے کیوں مجھے چھوڑ دیا۔ منه