ستارہ قیصرہ — Page 122
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۲۲ ستاره قیصره بات پر متفق ہیں کہ ملعون یا لعنتی صرف اُسی حالت میں کسی کو کہا جاتا ہے جبکہ اس کا دل در حقیقت خدا سے تمام تعلقات محبت اور معرفت اور اطاعت کے توڑ دے اور شیطان کا ایسا تابع ہو جائے کہ گویا شیطان کا فرزند ہو جائے اور خدا اس سے بیزار اور وہ خدا سے بیزار ہو جائے اور خدا اس کا دشمن اور وہ خدا کا دشمن ہو جائے اسی لئے لعین شیطان کا نام ہے۔ پس وہی نام حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے تجویز کرنا اور ان کے پاک اور منور دل کو نعوذ باللہ شیطان کے تاریک دل سے مشابہت دینا اور وہ جو بقول ان کے خدا سے نکلا ہے اور وہ جو سراسر نور ہے اور وہ جو آسمان سے ہے اور وہ جو علم کا دروازہ اور خدا شناسی کی راہ اور خدا کا وارث ہے اُسی کی نسبت نعوذ باللہ یہ خیال کرنا کہ وہ لعنتی ہو کر یعنی خدا سے مردود ہو کر اور خدا کا دشمن ہو کر اور دل سیاہ ہو کر اور خدا سے برگشتہ ہو کر اور معرفت الہی سے نابینا ہوکر شیطان کا وارث بن گیا اور اس لقب کا مستحق ہو گیا جو شیطان کے لئے خاص ہے یعنی لعنت ۔ یہ ایک ایسا عقیدہ ہے کہ اس کے سننے سے دل پاش پاش ہوتا ہے اور بدن پر لرزہ پڑتا ہے۔کیا خدا کے مسیح کا دل خدا سے ایسا برگشتہ ہو گیا جیسے شیطان کا دل؟ کیا خدا کے پاک مسیح پر کوئی ایسا زمانہ آیا جس میں وہ خدا سے بیزار اور در حقیقت خدا کا دشمن ہو گیا ؟ یہ بڑی غلطی اور بڑی بے ادبی ہے قریب ہے جو آسمان اس سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے ۔ غرض مسلمانوں کے جہاد کا عقیدہ مخلوق کے حق میں ایک بداندیشی ہے اور عیسائیوں کا یہ عقیدہ خود خدا کے حق میں بداندیشی ہے۔ اگر یہ ممکن ہے کہ نور کے ہوتے ہی اندھیرا ہو جائے تو یہ بھی ممکن ہے کہ نعوذ باللہ کسی وقت مسیح کے دل نے لعنت کی زہر ناک کیفیت اپنے اندر حاصل کی تھی ۔ اگر انسانوں کی نجات (۱۰) اسی بے ادبی پر موقوف ہے تو بہتر ہے کہ کسی کی بھی نجات نہ ہو کیونکہ تمام گنہگاروں کا مرنا به نسبت اس بات کے اچھا ہے کہ مسیح جیسے نور اور نورانی کو گمراہی کی تاریکی اور لعنت اور خدا