سرّالخلافة — Page 402
روحانی خزائن جلد ۸ ۴۰۲ سر الخلافة کر لیں کہ آپ منشی ہیں گونشیانہ لیا قتیں آپ میں پائی نہیں جاتیں تو چنداں حرج نہیں کیونکہ منشی گری کو ہمارے دین سے کچھ تعلق نہیں لیکن ہم کسی طرح مولوی کا خطاب ایسے نادانوں کو دے نہیں سکتے جن کو ہم پانچ ہزار روپیہ تک انعام دینا کریں تب بھی اُن کی مردہ روح میں کچھ قوت مقابلہ ظاہر نہ ہو ہزار لعنت کی دھمکی دیں کچھ غیرت نہ آوے تمام دنیا کو مددگار بنانے کے لئے اجازت دیں تب بھی ایک جھوٹے منہ سے بھی ہاں نہ کہیں ایسے لوگوں کو اگر مولوی کا لقب دیا جاوے تو کیا بجز مسلمانوں کے کافر بنانے کے کچھ اور بھی ان میں لیاقت ہے۔ ہرگز نہیں ۔ چار حدیثیں پڑھ کر نام شیخ الکل نعوذ بـالـلـه من فتن هذا الدهر و اهلها ونعوذ بالله من جهلات الجاهلين۔ یہ بھی واضح رہے کہ ہر ایک با حیاد شمن اپنی دشمنی میں کسی حد تک جا کر ٹھہر جاتا ہے اور ایسے جھوٹوں کے استعمال سے اُس کو شرم آجاتی ہے جن کی اصلیت کچھ بھی نہ ہو مگر افسوس کہ شیخ صاحب نے کچھ بھی اس انسانی شرم سے کام نہیں لیا جہاں تک ضرر رسانی کے وسائل اُن کے ذہن میں آئے انہوں نے سب استعمال کئے اور کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ اول تو لوگوں کو اٹھایا کہ یہ شخص کافر ہے اور دجال ہے اس کی ملاقات سے پر ہیز کرو اور جہاں تک ہو سکے اس کو ایذا دو اور ہر ایک ظلم سے اس کو دکھ دو سب ثواب کی بات ہے۔ اور جب اس تدبیر میں ناکام رہے تو گورنمنٹ انگریزی کو مشتعل کرنے کے لئے کیسے کیسے جھوٹ بنائے کیسے کیسے مفتریات سے مدد لی لیکن یہ گورنمنٹ دوراندیش اور مردم شناس گورنمنٹ ہے سکھوں کے قدم پر نہیں چلتی کہ دشمن اور خود غرض کے منہ سے ایک بات سن کر ا فر وختہ ہو جائے بلکہ اپنی خداداد عقل سے کام لیتی ہے۔ سو گورنمنٹ دانشمند نے اس شخص کی تحریروں پر کچھ توجہ نہ کی اور کیونکر توجہ کرتی اس کو معلوم تھا کہ ایک خود غرض دشمن نفسانی جوش سے جھوٹی مخبری کر رہا ہے گورنمنٹ کو اس عاجز کے خاندان کے خیر خواہ ہونے پر بصیرت کامل تھی اور گورنمنٹ خوب جانتی تھی کہ یہ عاجز عرصہ چودہ سال سے بر خلاف ان تمام مولویوں کے بار بار یہ مضمون شائع کر رہا ہے کہ ہم لوگ جو گورنمنٹ برطانیہ کی ۷۲ رعیت ہیں ہمارے لئے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے گورنمنٹ ھذا کے زیر اطاعت رہنا اپنا فرض ہے اور بغاوت کرنا حرام۔ اور جو شخص بغاوت کا طریق اختیار کرے یا اس کے لئے