سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 396
صفحہ ۱۳۵۔اے دوست ہمیں ادھار سے کچھ غرض نہیں اگر تجھ میں ہمت ہے تو نقد حاضر کر صفحہ ۱۳۶۔خدا کرے اس کمینے کا دل کبھی خوش نہ ہو جس نے دنیا کی خاطر دین کو برباد کر لیا صفحہ ۱۴۹۔میرے سامنے کسی بادشاہ کا ذکر نہ کر کیونکہ میں تو ایک اور دروازہ پر امیدوار پڑا ہوں۔وہ خدا جو دنیا کو زندگی بخشنے والا ہے اور بدیع اور خالق اور پروردگار ہے۔کریم وقادر ہے اور مشکل کشا ہے، رحیم ہے، محسن ہے اور حاجت روا ہے۔میں اس کے دروازہ پر آپڑا ہوں کیونکہ مثل مشہور ہے کہ دنیا میں ایک کام میں سے دوسرا کام نکل آتا ہے۔جب وہ یار وفادار مجھے یاد آتا ہے تو ہر رشتہ دار اور دوست مجھے بھول جاتا ہے۔میں اُسے چھوڑ کر کسی اور سے کس طرح دل لگاؤں کہ بغیر اُس کے مجھے چین نہیں آتا۔دل کو میرے زخمی سینے میں نہ ڈھونڈو کہ ہم نے اُسے ایک محبوب کے دامن سے باندھ دیا ہے۔میرا دل دلبر کا تخت ہے اور میرا سر یار کی راہ میں قربان ہے۔میں کیا بتاؤں کہ مجھ پر اُس کا فضل کس طرح کا ہے کیونکہ اس کا فضل تو ایک ناپیدا کنار سمندر ہے۔میں اُس کی مہربانیوں کو کیوں کر گنوں کہ اُس کی مہربانیاں تو حد شمار سے باہر ہیں۔مجھے اُس دلبر سے ایسا تعلق ہے کہ کسی کو بھی اس معاملہ کی خبر نہیں۔میں اُس کے دروازے پر اس طرح روتا ہوں جس طرح بچہ پیدا ہوتے وقت حاملہ عورت روتی ہے۔میرا وقت اُسی کے عشق سے بھرپور ہے۔واہ کیا اچھا وقت ہے اور کیا عمدہ زمانہ ہے!۔اے یار کے گلزار تیرے کیا کہنے! تو نے تو مجھے دنیا کے باغ وبہار سے بے پروا کر دیا صفحہ ۱۵۰۔طاقتور تو اپنا حلم ظاہر کرتا ہے مگر جاہل یہ سمجھتا ہے کہ وہ غالب آگیا ہے