سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 391 of 494

سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 391

۔ہم لوگ جنہوں نے اُس کے دیدار سے اپنا چہرہ روشن کیا ہے ہم نے تو اُسے عشق اور فنا کے راستہ سے پایا ہے۔اُس خدا کے لئے جب ہم نے اپنی خودی ترک کر دی تو ہماری فنا کے نتیجہ میں بقا ظاہر ہو گئی۔اس راستے میں زیادہ تکلیف اٹھانی نہیں پڑتی وہ صرف جان مانگتا ہے اور اُس کا دینا مشکل نہیں ہے۔اگر وہ خود اپنے فضل وکرم سے مجھے نہ بلاتا۔تو خواہ میں کتنی ہی کوششیں کرتا سب بے فائدہ تھیں صفحہ ۱۰۱۔اُس نے ایک نظر سے اِس فقیر کو بادشاہ بنا دیا اور ہمارے لمبے راستہ کو مختصر کر دیا۔اُس محبوب نے خود اپنا راستہ میرے لئے کھولا۔میں یہ بات اس طرح جانتا ہوں جیسے باغبان پھول کو۔جو میرے زمانہ میں مجھ سے جُدا رہتا ہے تو وہ خود اپنی جان پر ظلم کرتا ہے۔محبوب کے نور سے میرا سینہ بھر گیا میرے آئینہ کا صیقل اسی کے ہاتھ نے کیا۔میرا وجود اُس یار ازلی کا وجود بن گیا اور میرا کام اُس دلدارِ قدیم کا کام ہو گیا۔چونکہ میری جان میرے یار کے اندر مخفی ہو گئی اس لئے یار کی خوشبو میرے گلزار سے آنے لگی۔ہماری چادر کے اندر خدا کا نور ہے وہ دلبر میرے گریبان میں سے نکلا۔احمدآخر زماں میرا نام ہے اور میرا جام ہی (دنیا کے لئے) آخری جام ہے۔راہِ خدا کے طالب کو خوشخبری ہو کہ اُسے خدا نے کامیابی کا یہ زمانہ دکھایا۔جس کسی کا دوست اس کی نظر سے غائب ہو جاتا ہے تو وہ کسی واقف سے اس کی خبر پوچھتا ہے۔اور جو کسی معشوق کا طلب گار ہوتا ہے تو اُسے ایک ہی جگہ پر کب چین آتا ہے۔وہ ہر طرف دیوانہ وار دوڑتا ہے تا کہ شاید یار کا چہرہ کہیں نظر آجائے۔جس کی جان میں دلبر کا عشق سما گیا ہے تو دوست کے فراق میں اُس کا دل ہاتھ سے نکل نکل جاتا ہے۔عاشقوں کے لئے صبر اور آرام کہاں ! اور معشوق کے چہرے سے روگردانی کہاں؟۔جسے دوست کے منہ سے محبت ہوتی ہے اُسے تو دن رات اُس کے چہرہ کا ہی خیال رہتا ہے۔اگر اتفاقاً اُس سے جدائی ہو جائے تو اس کے جان وتن میں جدائی ہو جاتی ہے۔یار کے بغیر اُس کی زندگی کا ایک لمحہ بھی اُس پر زندگانی کو تلخ کر دیتا ہے