سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 392
۔پھر جب وہ اُس کا حسن اور اُس کا چہرہ دیکھتا ہے تو بے حواسوں کی طرح اُس کی طرف دوڑتا ہے۔اور یہ کہہ کر دیوانہ وار اس کے دامن کو پکڑ لیتا ہے کہ اے دوست میرا دل تیری جدائی میں خون ہو گیا۔اگر ایسا صدق کسی کے دل میں ہو تو وہ بلبل کی طرح پھول کو اپنا ٹھکانا بنا لیتا ہے۔اگر ُتو بے شمارچیخوں اور آہوں کے ساتھ گر پڑے تو پھر ضرور کوئی مدد کے لئے کھڑا ہو جاتاہے۔(یہ خیال کر کہ) روشن سورج سے منہ پھیر لینا کہ میں اپنے اندر سے آپ ہی روشنی پیدا کر لوں گا۔یہی تو نامرادی کے آثار ہوا کرتے ہیں بدبختی کی جڑ تکبر اور خامی ہے۔اس خیال نے ایک جہان کو اندھا کر رکھا ہے اور اسے گمراہی کے کنوئیں میں سر کے بل ڈال دیا ہے۔پیاسے کو پانی کی طرف دوڑنا چاہیے جس نے صدقِ دل سے تلاش کی اُس نے آخر کار مقصود کو پا لیا صفحہ ۱۰۲۔وہ آدمی عقلمند ہے جو یار کی گلی ڈھونڈتا ہے اور روئے یار کی خاطر اپنی عزت ڈبوتا ہے۔وہ خاک بن جاتا ہے کہ ہوا اُسے لے اڑے اور فنا ہو جاتا ہے تا کہ کوئی اُسے راستہ دکھائے۔خدا کی مہربانی کے بغیر کام ادھورا رہتا ہے عقلمند ہی اس بات کو جانتا ہے۔والسلام یہ سب باتیں جو اس عاجز کے قلم سے نکلی ہیں حال سے ہیں نہ قال سے اور دلی جوش سے ہیں نہ تکلفات سے۔اب بہتر ہے زحمت کم کی جائے (آپ کی سردردی کی تکلیف کو کم کروں ) جو ہمارے دل میں ہے۔خدا آپ کے دل میں الہام کرے۔دل کو دل سے راہ پیدا ہو جائے۔مکرمی اخویم مولوی حکیم نور الدین اور صاحبزادہ محمد سراج الحق جمالی کی طرف سے السلام علیکم۔مولوی صاحب آنمکرم کے ذکر خیر میں اکثر رطب اللسان رہتے ہیں۔تعجب ہے کہ ایک مختصر صحبت میں آنمکرم سے دلی محبت اور اخلاص اس قدر زیادہ ہے کہ انہوں نے آپ کے اس خارق امر کا ذکر کئی مرتبہ کیا ہے۔آنمحترم نے مجھے ایک درود شریف پڑھنے کا ارشاد فرمایا ہے کہ اس سے حضرت نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زیارت نصیب ہو گی چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ اسی رات مَیں زیارت سے مشرف ہوا۔والسلام الراقم خاکسار غلام احمد از قادیان